سوراب ‘ رمضان راشن پیکج کے ہزاروں پیکٹس غائب، تحقیقات نہ ہونے پر عوامی حلقوں میں تشویش – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

سوراب ‘ رمضان راشن پیکج کے ہزاروں پیکٹس غائب، تحقیقات نہ ہونے پر عوامی حلقوں میں تشویش

شہید سکندرآباد سوراب(این این آئی) رمضان راشن پیکج کے ہزاروں پیکٹس غائب، تحقیقات نہ ہونے پر عوامی تشویش شدت اختیار کرگئی، تفصیلات کے مطابق ضلع شہید سکندراباد سوراب میں رمضان راشن پیکج کے بڑے اسکینڈل کی تاحال تحقیقات نہ ہونے کے باعث عوامی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش اب شدید اضطراب میں تبدیل ہوتی جارہی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکین اور سیاسی کارکنان مسلسل احتجاجی آواز بلند کررہے ہیں مگر متعلقہ حکام کی جانب سے معنی خیز پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک میں غریب اور نادار خاندانوں کے لئے مختص ہزاروں راشن پیکٹس پراسرار طور پر غائب ہوگئے، جس نے پورے ضلع میں ایک بڑے مالی و انتظامی اسکینڈل کو جنم دیا ہے۔ سرکاری سطح پر راشن کی فراہمی کے دعوے اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک سنگین بدانتظامی اور مبینہ خردبرد کی نشاندہی کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق تحصیل دشت گوران، مہرآباد اور گدر کے وسیع دیہی علاقوں میں ایک بھی حقیقی مستحق خاندان کو راشن فراہم نہیں کیا گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق وہ روزانہ کی بنیاد پر راشن کے حصول کے لئے سرکاری دفاتر اور تقسیم مراکز کے چکر لگاتے رہے، مگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا گیا اور آخرکار خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔اس پورے معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امدادی راشن پیکٹس کے بارے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہیں خفیہ طریقے سے مارکیٹ میں فروخت کیا گیا، جہاں سرکاری امداد کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کردیا گیا۔ اس عمل نے نہ صرف مستحقین کے ساتھ زیادتی کی بلکہ سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال پر بھی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔مقامی ذرائع اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مبینہ گھپلے میں بااثر عناصر اور بعض سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہے، جس کے باعث پورا نظام شفافیت سے محروم ہوکر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک اس معاملے کی نہ کوئی باضابطہ انکوائری شروع ہوسکی ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار کا تعین کیا گیا ہے۔دوسری جانب تحصیل دشت گوران، مہرآباد اور گدر سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان سوشل میڈیا پر مسلسل اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ویڈیوز، بیانات اور تحریری پوسٹس کے ذریعے وہ اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر زمینی سطح پر احتجاج کو نظر انداز کیا گیا تو وہ ڈیجیٹل سطح پر اپنی آواز کو مزید مو¿ثر انداز میں بلند کرتے رہیں گے۔بلوچستان نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور بلدیاتی نمائندوں نے بھی اس بدترین گھپلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں غریبوں کے حصے کا راشن غائب ہونا ناقابل برداشت ہے اور اس میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکینڈل کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں، تمام ملوث کرداروں کو بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے مو¿ثر نظام وضع کیا جائے۔ بصورت دیگر عوامی غم و غصہ مزید شدت اختیار کرکے ایک بڑے احتجاجی ردعمل کی صورت اختیار کرسکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.