جنوبی ایشیا کے تنازعات بے قابو ہوسکتے ہیں، نیوکلیئر تصادم کا خطرہ ہے: جنرل ساحر شمشاد – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

جنوبی ایشیا کے تنازعات بے قابو ہوسکتے ہیں، نیوکلیئر تصادم کا خطرہ ہے: جنرل ساحر شمشاد

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کئی غیر حل شدہ تنازعات ہیں جو کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا نے یہ بات سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران ایک اہم خطاب میں کہی، انہوں نے فورم پر جنوبی ایشیا میں تنازعات کے حل کے حوالے سے 8 اہم نکات پیش کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایشیا پیسفک کو مضبوط بنانے کے لیے جنوبی ایشیا کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جنوبی ایشیا میں دو اہم جوہری طاقتیں پاکستان اور بھارت موجود ہیں جن کے درمیان مسئلہ کشمیر اب تک حل طلب ہے، جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کئی دوسرے حل طلب مسائل بھی پائے جاتے ہیں، یہ تنازعات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، اس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، ہمیں ادارہ جاتی پروٹوکول، ہاٹ لائنز کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ ایشیا پیسیفک اب اکیسویں صدی کا جیوپولیٹیکل کاک پٹ بن چکا ہے، جہاں سٹریٹجک کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خطے میں بحرانوں سے نمٹنے کے ادارہ جاتی نظام نہ صرف نازک ہیں بلکہ غیر مساوی بھی ہیں، جس کی وجہ سے تنازعات کی شدت کم کرنے کے لیے مؤثر مکالمہ اور تعاون کا فقدان ہے۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا کہ پائیدار کرائسس مینجمنٹ کے لیے باہمی برداشت، واضح ریڈ لائنز اور مساوی رویہ ناگزیر ہے، جب تک فریقین کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا، کوئی بھی سٹریٹجک فریم ورک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایڈہاک اقدامات ناکافی ہیں، خطے کو ایسے ادارہ جاتی پروٹوکولز، فعال ہاٹ لائنز، کشیدگی میں کمی کے لیے طے شدہ طریقہ کار اور مشترکہ کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے۔

جنرل ساحر شمشاد نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور رئیل ٹائم بیٹل فیلڈ سرویلنس جیسے جدید حربے سٹریٹجک فیصلوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، اس لیے کرائسس مینجمنٹ میکنزم میں ان جدید حقیقتوں کو شامل کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر طاقت اور مفادات اب اخلاقیات، اصولوں، ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور انصاف جیسے اقدار سے بالاتر ہو چکے ہیں، نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے نہیں بلکہ پُراعتماد مکالمے اور مؤثر سٹریٹجک کمیونیکیشن سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، غلط فہمیاں اور گمراہ کن معلومات کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.