گوادر (این این آئی)گوادر کو عالمی کاروباری مرکز بنانے کا بڑا منصوبہ،2585 ایکڑ پر پھیلا میگا پراجیکٹ میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ،گوادر کا نیا ڈاو¿ن ٹاو¿ن تشکیل پانے کو تیار،منصوبے میں ویسٹ بے میں جدید کاروباری و رہائشی شہر بسانا شامل،بین الاقوامی ہوٹلز، ایکسپو سینٹر اور مرینا پارک منصوبے کا حصہ،8 سال میں مرحلہ وار تکمیل، ابتدائی طور پر انفراسٹرکچر پر توجہ،منصوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا،تفصیلات کے۔مطابق ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی سربراہی میں گوادر کے فلیگ شپ منصوبے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD) سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، متوقع لانچنگ اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹاو¿ن پلاننگ شاہد علی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ٹاو¿ن پلاننگ نے شرکائ کو سی بی ڈی منصوبے کے مختلف تکنیکی، تجارتی اور شہری منصوبہ بندی کے پہلوو¿ں پر جامع بریفنگ دی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس میگا منصوبے کے لیے 2585 ایکڑ اراضی مختص کی جاری ہے، جس کے فوراً بعد منصوبے کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ گوادر میں عاشی، تجارتی، سیاحتی اور رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی لائے گا اور شہر کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل معین الرحمن خان نے کہا کہ گوادر سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ، گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کا ایک کلیدی جزو ہے، جو شہر کو عالمی معیار کے جدید کاروباری اور مالیاتی مرکز میں تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ ویسٹ بے کے مرکزی علاقے میں 2585 ایکڑ پر محیط ہوگا، جو مستقبل میں گوادر کا جدید "ڈاو¿ن ٹاو¿ن” تصور کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی معاشی و تجارتی تبدیلیوں کے تناظر میں گوادر کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گوادر اپنی جغرافیائی حیثیت، محفوظ بندرگاہ اور اسٹریٹجک لوکیشن کی بدولت مستقبل قریب میں ایک پرکشش، محفوظ اور مو¿ثر عالمی تجارتی، لاجسٹکس اور شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایسے میں سی بی ڈی منصوبے کی لانچنگ نہ صرف بروقت بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ثابت ہوگی، جو عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سی بی ڈی میں جدید کاروباری دفاتر، عالمی معیار کے ہوٹلز، رہائشی اپارٹمنٹس، شاپنگ سینٹرز، کانفرنس ہالز، کلچرل سنٹرز اور جدید پبلک اسپیسز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک مینجمنٹ، پارکنگ، واکنگ ٹریکس، سائیکلنگ روٹس اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔منصوبے میں ایمیوزمنٹ پارکس، آرٹ اینڈ کلچر میوزیم، گرینڈ تھیٹر، لائبریری، انٹرنیشنل ایکسپو سینٹر، گوادر ٹاور، مرینا پارک اور سی سائیڈ ریزورٹس جیسے اہم منصوبے شامل ہیں، جو نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اجلاس میں منصوبے کے بزنس ماڈل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس کے تحت زمین کی فروخت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) اور جوائنٹ وینچرز (JV) کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔ منصوبے کی ترقی مرحلہ وار تقریباً 8 سال میں مکمل کی جائے گی، جس میں ابتدائی طور پر بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سی بی ڈی منصوبہ گوادر کو عالمی سطح کے سرمایہ کاری اور کاروباری مرکز میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور شہر کی پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمن خان کی سربراہی میں ادارے کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریونیو، فیس کلیکشن اور آمدن بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ڈی جی جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کے تحت شہر کو عالمی معیار پر استوار کرنے کے لیے تمام امور کو باقاعدہ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی، این او سی کا حصول اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں ریونیو بڑھانے کے لیے نئی ہاو¿سنگ اسکیم، سمیت امدن کے نئے مواقع اور سیاحت کے فروغ کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
You might also like