بلوچستان کی مٹی میں چھپا خزانہ اب سامنے آگیا 

خضدار(بیورورپورٹ)بلوچستان کی مٹی میں چھپا خزانہ اب سامنے آگیا ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹیوٹ باغبانہ خضدار کے سینئیرسائنٹفک آفیسر ریاض احمد قلندرانی نے کہا ہے کہ خضدار کی زمین اور آب و ہوا زیتون پستہ اور بادام جیسے قیمتی درختوں کی کاشت کے لیے دنیا کے بہترین خطوں میں شامل ہےانہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زیتون کا پھل زمانہ قدیم سے صحت اور برکت کی نشانی ہےقدیم یونان میں اس درخت کو خوشحالی اور کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا آج بلوچستان کے لیے بھی یہی درخت ترقی کا دروازہ بن رہا ہے ریاض احمد قلندرانی نے کہاخضدار میں زیتون کے پھل سے %20 تیل حاصل کیاگیاہے جو عالمی معیار کے برابر ہےانہوں نے کہا کہ زیتون کی مختلف اقسام ذائقے اور بناوٹ میں منفرد ہیں اسی وجہ سے اس کے تیل کی قیمت اور مانگ دونوں زیادہ ہیں انہوں نے کہا کہ خضدار میں زیتون کی پیداوار اگلے دو سے تین سال میں تیزی سے بڑھے گی اس کے ساتھ لورالائی واشک خاران،l نوشکی دالبندین پنجگور اور دیگر علاقوں میں کاشت کے وسیع امکانات موجود ہیں ان علاقوں میں کاشت کا دائرہ بڑھانے کی جامع پلاننگ مکمل ہے سینئیر آفیسران نے بتایا کہ خضدار باغبانہ اور لورالائی میں نرسریاں پہلے سے فعال ہیں یہ نرسریاں سالانہ لاکھوں زیتون کے پودے تیار کرکے زمینداروں کو فراہم کر رہی ہیں حکومت نے بھی بلوچستان کے 16 اضلاع میں زیتون کے باغات کی کاشت اور تیل کی پروسیسنگ کی سہولیات میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہےمحکمہ زراعت کا ریسرچ ونگ خشک سالی کے بڑھتے مسئلے کے پیش نظر کسانوں کو زیتون کی کاشت کی ترغیب دے رہا ہےپاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل PARC نے بھی شجرکاری مہم کے تحت بلوچستان میں لاکھوں زیتون کے پودے لگائے ہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ زیتون کی کاشت کو اپنا کر اپنے اور آنے والی نسلوں کا بہتر مستقبل محفوظ بنائیں اس موقع پر سائنٹفک آفیسر صبغت اللہ گرگناڑی،سپرنٹنڈنٹ حفیظ اللہ، منیر احمد زہری، نعیم موسیانی اور دیگر اسٹاف بڑی تعداد موجود تھے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P