حکومتِ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا ہے جس میں دوٹوک مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ اس پر 24 کروڑ افراد کی زندگیوں کا انحصار ہے، پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں ’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اور مختلف ممالک کے مندوبین و آبی ماہرین شریک ہیں۔
عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے: اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے پانی روکنے کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے، پانی سیاسی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا بلکہ زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وعدہ خلافی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے جب کہ قوانین کی بالادستی پر قائم نظام بھی کمزور ہوتا ہے، جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔
نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی برسوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جس کا مقصد دستیاب آبی وسائل کا بہترین اور منصفانہ استعمال یقینی بنانا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے اور عالمی قانون، معاہدوں پر عملدرآمد اور آبی حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی بھی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا اور اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین اور سفارتی ذرائع سے مؤثر انداز میں کام جاری رکھے گا۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ معطلی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، فیصلہ ہوا پاکستان کے پانی کا رخ موڑنے، روکنے یا کمی کی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ فیصلہ قومی یکجہتی کےساتھ کیا گیا تھا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کےعزم پر قائم ہے، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا، پاکستان نےکشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم، بھارت سندھ طاس نظام پر ناانصافی کر رہا ہے: ڈاکٹر وکٹر گاؤ
سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، بھارت دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے مکمل طور پر ناانصافی کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ اس اہم سیمینار میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کیں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ انہوں نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو کوئی اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارت کا طرزِ عمل انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس معاملے کو انسانی اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قیادت مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے: وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے نظام کے پانی پر پورا حق ہے، بھارت نے پانی میں رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے، پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاء کا معاملہ ہے۔
