سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو جسٹس علی باقر نجفی کے اُس بیان کی شدید مذمت کی جو ایک روز قبل نور مقدم کیس سے متعلق سامنے آیا تھا، اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی، جو اب وفاقی آئینی عدالت کا حصہ ہیں، نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ نور مقدم کیس معاشرے میں پھیلنے والی ایک ’برائی‘ کا نتیجہ ہے، جسے ’لِوِنگ ریلیشن شپ‘ (یعنی دو غیر شادی شدہ افراد کا ایک ساتھ رہنا)کہا جاتا ہے۔
کمیٹی نے آج کے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ ’جب خواتین کے خلاف مقدمات میں سزا کی شرح پہلے ہی شرمناک حد تک کم ہے، تو اگر ایک جج خود اس طرح کی بات کرے تو سزا کی شرح کا کیا بنے گا؟‘۔
کم سزا کی شرح کے باعث کمیٹی نے ایڈووکیٹ جنرلز، پراسیکیوٹر جنرلز، پولیس حکام اور متعلقہ تمام اداروں کو طلب کر لیا۔
جنس کی بنیاد پر تشدد( جی بی وی)کے مقدمات میں سزا کی شرح مبینہ طور پر صرف 1.2 فیصد ہے، جس کی وجہ کمزور پراسیکیوشن اور عدالتی تاخیر ہے۔