بہت سے دوستوں نے رابطہ کیا، کچھ نے اتفاق کیا، کچھ نے اختلاف کیا، لیکن تقریباً ہر گفتگو آخر میں ایک ہی سوال پر آ کر رک گئی کہ روس میں 89 اکائیاں تو بنا دی گئی ہیں، مگر آخر یہ نظام چلتا کیسے ہے؟
یہ سوال میرے لیے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ نقشے پر لکیریں کھینچ دینا آسان ہے، اصل امتحان ان لکیروں کے اندر حکومت چلانے کا ہے۔
روس میں رہتے ہوئے یہاں کے نظام کو دیکھیں تو پہلی بات جو سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر کام کیلئے ماسکو کی طرف نہیں دیکھا جاتا، روس ایک مضبوط مرکزی ریاست ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے کسی دور دراز علاقے میں سکول، ہسپتال، علاقائی سڑک یا مقامی ترقی کا معاملہ ہو تو فائل اٹھا کر کریملن پہنچ جائے۔
روس کی 89 وفاقی اکائیوں کے نام بھی ایک جیسے نہیں، کہیں اوبلاست ہے، کہیں کرائے، کہیں جمہوریہ، کہیں خودمختار علاقہ اور ماسکو جیسے بڑے شہروں کی اپنی وفاقی حیثیت ہے، لیکن عام پاکستانی قاری کیلئے ان پیچیدہ روسی اصطلاحات سے زیادہ اہم یہ سمجھنا ہے کہ یہ ملک مختلف انتظامی اکائیوں میں تقسیم ہے اور ان اکائیوں کے اپنے حکومتی ڈھانچے موجود ہیں۔
زیادہ تر علاقوں کا انتظامی سربراہ گورنر ہوتا ہے، جبکہ جمہوریاؤں میں اسے سربراہِ جمہوریہ کہا جاتا ہے، یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے، روس کا گورنر ہمارے ہاں کے گورنر جیسا رسمی عہدہ نہیں، انتظامی لحاظ سے اس کا کردار زیادہ ہمارے وزیراعلیٰ کے قریب ہے، اس کے ساتھ علاقائی حکومت ہوتی ہے، قانون ساز ادارہ ہوتا ہے، بجٹ ہوتا ہے اور مختلف محکمے ہوتے ہیں۔
یعنی ماسکو میں بیٹھا وفاق یہ طے نہیں کرتا کہ روس کے ہر شہر اور ہر علاقے کی ہر سڑک کہاں بنے گی یا ہر ہسپتال کا روزمرہ انتظام کیسے چلے گا، یہیں سے پاکستان کے لیے پہلا سبق نکلتا

