دو کلومیٹرکے فاصلے پر واقع گورنمنٹ پرائمری سکول کلی چھٹہ مکمل طور پر ویران پڑا ہے

خضدار(بیورورپورٹ)خضدار، تحصیل کرخ کے شہر سے مغرب میں دو کلومیٹرکے فاصلے پر واقع گورنمنٹ پرائمری سکول کلی چھٹہ مکمل طور پر ویران پڑا ہےذرائع کے مطابق اسکول میں تعینات سرکاری اساتذہ ماہانہ تنخواہیں تو باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں لیکن ڈیوٹی پر آنا گوارا نہیں کرتےاہل علاقہ کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے اسکول کا دروازہ بچوں کے لیے بند ہے اور نہ ہی کوئی تدریسی سرگرمی جاری ہے روزانہ کی بنیاد پر تقریبا %75 معصوم بچے یونیفارم پہن کر اسکول پہنچتے ہیں اور مایوسی کے عالم میں واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ کھلا ظلم ہے کہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں جاری ہیں لیکن بچوں کا مستقبل تاریک کیا جا رہا ہےوالدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم جیسے بنیادی حق سے محرومی نسلوں کی تباہی کے مترادف ہےاہلیان کلی چھٹہ مقامی صحافیوں کو بتایا اور انہوں نے حکام بالا سے فوری نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کلی چھٹہ کے تمام سرکاری اساتذہ کی حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائےانہوں نے مزید کہا کہ مسلسل غیر حاضری اختیار کرنے والے اساتذہ کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی جائے اور ان کی تنخواہیں فی الفور بند کی جائیں علاقہ مکینوں نے وزیر تعلیم بلوچستان اور سیکٹریری ایجوکیشن ،ضلعی منتظم تعلیم خضدارسے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے کر %75 فیصد بچوں کی تعلیم فوری طور پر بحال کروائیں تاکہ دیہی علاقے کے یہ بچے بھی قومی دھارے میں شامل ہو کر ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P