کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ، سرحدی شہر چمن اور صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان جاری کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کی اپنے وطن واپسی کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ کوئٹہ، چمن اور دیگر اضلاع کے مختلف رہائشی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کی جانب سے گھر گھر تلاشی اور شناختی دستاویزات کی جانچ کا عمل جاری ہے، جس کے دوران ایسے افراد کے کوائف کی تصدیق کی جا رہی ہے جو پاکستان میں قیام کے لیے مطلوبہ قانونی دستاویزات سے محروم ہیں یا جن کے سفری اور رہائشی کاغذات کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق، سرچ آپریشن کے دوران مختلف علاقوں میں رہائش پذیر افراد سے شناختی دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں، جبکہ مشتبہ افراد اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بارے میں معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق، حالیہ کارروائیوں کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہریوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ بعض افراد کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ حکام کی نگرانی میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی اضافی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ وطن واپسی کے عمل کو منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔ حکومتی پالیسی کے تحت یہ کارروائیاں جاری رہیں گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حساس علاقوں میں نگرانی مزید مثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور ملکی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز اور ایف سی مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
You might also like
