آئی جی اسلام آباد اور کمشنرو چیئرمین سی ڈی اے نے یوم آزادی پر 14 اگست کی شام ڈی چوک میں منعقد ہونے والی پریڈ میں بگی پر پروٹوکول انجوائے کیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔عوامی ری ایکشن پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان دونوں افسران کا دفاع کیا ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ’’ امیر ملک کا وزیر خارجہ خود کو عوام کا خادم سمجھتا ہے اور عوام کو جوابدہ ہے مگر ہمارے انگریزوں کے پالتو خود کو حاکم سمجھتے ہیں۔‘‘
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ’’بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکمرانوں سے لے کر عام عوام تک اسی بگھی مائنڈ سیٹ کے ہو چکے ہیں۔ہمارے عام لوگوں کے پاس بھی تھوڑے پیسے آجائیں تو کم عمرنوکروں کی فوج رکھ کر دل خوش کرلیتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کرنا اپنا حق سمجھنے لگے ہیں یہاں تک کہ پولیس کا غیرقانونی کام بھی صحیح لگنے لگا ہے۔‘‘
ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا ’’جب تک عوام کو عزت نہیں ملتی ان کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوتا اور سرکاری ادارے خود کو عوام کا خادم نہیں سمجھتے تب تک نہ کرپشن ختم ہوگی نہ اقربا پروری۔ ریاست کی اصل طاقت عوام ہیں اور اداروں کا مقصد ان کی خدمت ہونا چاہیے۔‘‘
معاملے پر صحافی برادری کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے اوردونوں افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اینکر اطہر کاظمی نے لکھا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک کے وزیر خارجہ! بمقابلہ ایک لاکھ ہزار ارب قرض میں ڈوبے ملک کے افسران! مسئلہ کسی ایک تقریب کا نہیں ہے، مسئلہ ہماری حکمران اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ ہے۔وہ مائنڈ سیٹ جو عوامی پیسے پر جہاز سے لے کر بگھی تک کا استعمال اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔
یاد رہے چند روز قبل ناروے کے وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچے تھے ، سامنے آنے والی ویڈیوز میں وہ اپنا سامان خود اٹھائے ائیرپورٹ سے باہر نکلتے دکھائے دئیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئےپلڈاٹ کے صدر احمر بلال صوفی کہا کہ ’’ کاش یہ مناظر حقیقی نہ ہوں اور آرٹی فیشل انٹیلیجینس کے تخلیق کردہ ہوں! اگر بدقسمتی سے یہ حقیقی ہیں تو اس سنگین حقیقت کا اظہار ہیں کہ یہ افسران عوام اور خصوصاً نوجوانوں کے اندر وی آئی پی نظام کے خلاف کھولتے ہوئے جذبات اور آتش فشاں پھٹنے کے امکان سے کس قدر بے خبر ہیں!!‘‘
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئےاینکر نادیہ مرزا کا کہنا تھا کہ چیئرمین CDA اور IG پولیس شاید اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ رہے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ عوام کے نوکر ہیں ۔ جس ملک کا قرضہ 100trillion ہے اور عوام بھوک اور افلاس سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو وہاں کے civil servants کی عیاشیاں ملاحظہ فرمائیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئےصحافی نوید صدیقی نے کہا ’’ویسے کیا سب کو یہ ویڈیو دیکھ کر انگریز کا غلامانہ اور وائسرانئے کا دور یاد نہیں آجاتا؟؟ بھلا ہو ان بیوروکریٹس اور اشرف المخلوقات افسران کا جو ہمیں ماضی کی یاد دلاتے اور تلخ یادیں بھولنے نہیں دیتے!!‘‘
عوامی ردعمل پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا، تاہم میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں آئی جی اسلام آباد یا چیف کمشنر اسلام آباد کا کوئی قصور نہیں تھا۔
صدرِ مملکت کی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے باعث معزز مہمانِ خصوصی اور مجھے تاخیر ہوگئی۔ عوام شام 5 بجے سے تقریب کا انتظار کر رہے تھے اور تقریباً 6 بجے جب یہ واضح ہوگیا کہ ہمیں مزید تاخیر ہوگی تو ہم نے افسران کو ہدایت کی کہ پروگرام شروع کردیا جائے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عوام کو مزید انتظار کرنا پڑے۔
معزز مہمانِ خصوصی کے لیے بگی کا انتظام کیا گیا تھا اور افسران کو بھی ان کے ہمراہ آنا تھا، لیکن بدقسمتی سے ناگزیر حالات کے باعث بگی افسران نے استعمال کی۔ میں ریکارڈ پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ دونوں افسران نے ابتدا میں ہماری غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا، تاہم ہم نے عوام کی سہولت کے پیشِ نظر انہیں خصوصی طور پر پروگرام شروع کرنے کی ہدایت کی۔
میں اسلام آباد کے شہریوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے 14 اگست کی تقریب کو ایک حقیقی جشن میں تبدیل کردیا۔‘‘

