ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق 15 اگست کی شام سے 16 اگست کی صبح ساڑھے چھ بجے تک مجموعی طور پر 600 ڈرونز ماسکو کی جانب پرواز کر رہے تھے، جن میں سے 201 ڈرونز کو ماسکو ریجن میں تباہ کیا گیا۔
سرگئی سوبیانین نے بتایا کہ ڈرونز کا ملبہ گرنے والے مقامات پر ایمرجنسی اور متعلقہ سروسز کام کر رہی ہیں جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ حملہ گزشتہ دو برس کے دوران ماسکو کی جانب کیے جانے والے بڑے ڈرون حملوں میں سب سے بڑا تھا۔
اس سے قبل 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب بھی ماسکو اور اس کے گردونواح کو بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دوران 430 سے زائد ڈرونز کی اطلاع دی گئی تھی، جن میں سے 36 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔
19 اور 20 جولائی کی درمیانی شب بھی 400 سے زائد ڈرونز نے دارالحکومت کے خطے کا رخ کیا تھا۔ روسی حکام کے مطابق ان میں سے بیشتر کو ماسکو سے دور فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ 85 ڈرونز ماسکو کے قریب پہنچنے پر تباہ کیے گئے۔
اسی طرح 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب 390 سے زائد ڈرونز ماسکو ریجن کی جانب بڑھے تھے جبکہ 17 اور 18 جولائی کے دوران یہ تعداد 370 سے زائد بتائی گئی تھی۔
11 سے 12 جولائی کے دوران بھی 300 سے زائد ڈرونز تباہ کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی، جن میں سے 45 ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔ 4 جولائی کو بھی 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد ڈرونز نے روسی دارالحکومت کی سمت پرواز کی تھی۔
اس سے قبل مارچ 2025 میں ماسکو کو ایک بڑے ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت روسی حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں ڈرونز تباہ کیے گئے تھے، جن میں 74 ڈرونز ماسکو کے قریب مار گرائے گئے تھے۔
اس واقعہ میں 15 اگست کی شام سے 16 اگست کی صبح تک 600 ڈرونز کے ماسکو کی جانب بڑھنے کو گزشتہ دو برس کے دوران روسی دارالحکومت پر سب سے بڑی ڈرون حملے کی کوشش قرار دیا گیا ہے، ماسکو اور ماسکو ریجن میں فضائی دفاعی نظام متحرک رہا جبکہ ملبہ گرنے والے مقامات پر ہنگامی اداروں کی ٹیمیں کام کر رہی

