توانائی ڈویژن کے تحت چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے نیپرا کی حالیہ تفتیشی رپورٹ میں نشاندہی کیے جانے والے بلنگ میں تضادات کا اعتراف کیا، لیکن ساتھ ہی صارفین کے ساتھ ہونے والی غلطیوں کی تعداد کم بتاتے ہوئے اسے قدرتی، انسانی اور تکنیکی عوامل سے منسوب کر دیا۔
یہ ابتدائی ردعمل توانائی ڈویژن کی جانب سے سابق سیکریٹری توانائی عرفان علی کی زیر قیادت ’آزاد کمیٹی‘ کی تشکیل کے کئی دن بعد سامنے آیا تاکہ نیپرا کی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد اور طریقے کار کا جائزہ لیا جاسکے، جس میں میٹر ریڈنگ، بلنگ، ناقص میٹرز اور تمام ڈسکوز میں اصلاحاتی طریقہ کار میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں پائی گئی تھی۔
اس بات کی تصدیق کی کہ نیپرا کی جانب سے کی گئی مجموعی کارروائی معقول ہے، اور اس وجہ سے ابتدائی ریگولیٹری سماعت کے بعد زیادہ شکایتوں کے جائزے، صارفین کے خدشات کو دور کرنے اور ڈسکوز کے علاقائی دفاتر کے دوروں کے لیے انکوائری کمیٹی کی تشکیل ہی تفصیلی تحقیقات کو یقینی بنانے کاصحیح طریقہ ہے۔
اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا کہ نیپرا کی انکوائری رپورٹ میں ڈسکوز کی جانب سے صارفین سے وصول کیے گئے ’ڈیٹیکشن بلوں‘ کے کل حجم کا ریکوری تناسب درست معلوم ہوتا ہے۔