نصابی و درسی کتب کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 95 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے معاشرے کے کم آمدنی والے طبقے کے لیے 30 فیصد مہنگائی کی بلند ترین سطح کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا جمعہ کو جاری کردہ مہنگائی کا تازہ ترین مانیٹر ظاہر کرتا ہے کہ نومبر 2022 سے اب تک نصابی کتب کی قیمتوں میں 94.7 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
پبلشنگ ہاؤسز کا مؤقف ہے کہ پچھلے سال ڈالر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے کاغذ کی درآمدات بہت مہنگی ہو گئی ہے۔
تاہم مارکیٹ درآمد شدہ نصابی کتب سے بھری ہوئی ہے کیونکہ تقریباً تمام نجی اسکول مقامی طور پر شائع ہونے والے کتب کے بجائے مہنگی درآمدی کتابوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 2 کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جاتے اور کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ اس تعداد میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔