Daily Mashriq
Mashriq Newspaper

بدنام زمانہ ایپسٹین جنسی اسکینڈل؛ بل گیٹس سے کانگریس ارکان کی بند کمرے میں تفتیش

امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے بند کمرہ اجلاس میں پیش ہوئے اور سخت سوالات کے جوابات دیے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بند کمرہ اجلاس میں کانگریس ارکان نے بل گیٹس سے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ریکٹ کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

یاد رہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری تین ملین سے زائد صفحات پر مشتمل ریکارڈ میں بل گیٹس کے حوالے سے سیکڑوں بار ذکر آیا ہے۔ جن میں ملاقاتوں، فون کالز، عشائیوں اور دیگر رابطوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق بل گیٹس اور جیفری ایپسٹین کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں بلکہ ایپسٹین کی 2008 میں جنسی جرائم سے متعلق سزا کے بعد بھی حیران کن طور پر یہ ملاقاتیں جاری رہی ہیں۔

ڈیموکریٹ رکن کانگریس رابرٹ گارشیا نے کہا ہے کہ ایپسٹین کی سزا کے بعد بھی بل گیٹس کا اس سے تعلق برقرار رکھنا تشویش کا باعث ہے اور کمیٹی اسی حوالے سے مزید وضاحت چاہتی ہے۔

کانگریس کمیٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ بل گیٹس اور ایپسٹین کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور گیٹس کو ایپسٹین کی سرگرمیوں کے بارے میں کس حد تک علم تھا۔

ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے کہا ہے کہ وہ بل گیٹس پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگا رہے تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ بل گیٹس نے ایپسٹین کے ساتھ کتنے قریبی روابط رکھے اور آیا کوئی مشتبہ سرگرمی دیکھی تھی یا نہیں۔

 

کیپیٹل ہل پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں تاکہ تحقیقات میں معاونت کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ میری گواہی متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے کمیٹی کے اہم کام میں مددگار ثابت ہوگی۔

 

یاد رہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری دستاویزات میں دو ایسے مسودہ ای میلز بھی شامل ہیں جو بظاہر 2013 میں ایپسٹین نے خود اپنے لیے تحریر کیے تھے۔

ان ای میلز میں بل گیٹس کے بارے میں کئی سنگین اور ذاتی نوعیت کے دعوے کیے گئے ہیں جن میں مبینہ جنسی تعلقات اور بعض ادویات کی فراہمی کے الزامات شامل ہیں۔

تاہم ان دعوؤں کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ ای میلز کبھی کسی کو بھیجی گئی تھیں۔

دستاویزات میں موجود الزامات غیر مصدقہ ہیں اور بل گیٹس پر ایپسٹین سے متعلق کسی مجرمانہ سرگرمی کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔

بل گیٹس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انھیں مضحکہ خیز اور سراسر جھوٹ قرار دیا تھا۔

ان کے ترجمان کا بھی کہنا تھا کہ بل گیٹس نے کبھی ایپسٹین کے نجی جزیرے کا دورہ نہیں کیا نہ ایسی کسی تقریب میں شرکت کی اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث رہے۔

بل گیٹس نے متعدد مواقع پر ایپسٹین سے اپنی ملاقاتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ایک بڑی غلطی تھی اور وہ اس فیصلے پر نادم ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More