حوثیوں کے سعودی شہروں ینبع اور جازان میں آرامکو تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملے

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق انصار اللہ نے ایک سخت بیان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے شہروں ینبع اور جازان پر حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، ان حملوں میں آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں کروز میزائل، بیلسٹک میزائل اور یمن میں تیار کردہ ڈرونز استعمال کیے گئے۔

 

دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ تمام حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا، تاہم حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا فوجی آپریشن کامیاب رہا اور تمام مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

 

یہ تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل سعودی عرب نے یمن کے صوبہ الحدیدہ اور جزیرہ کمران میں حوثیوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں کی تھیں، جزیرہ کمران یمن کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور باب المندب کے قریب واقع ہے، جہاں انصار اللہ کی کارروائیوں کے باعث کئی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا یا اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔

 

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اور عمانی حکام نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ، سعودی عرب اور انصار اللہ کے بعض نمائندے عمان میں موجود ہیں، جہاں ممکنہ طور پر مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری جاری ہے۔

 

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت تک دونوں جانب سے مزید حملوں کا خدشہ برقرار رہے گا، کیونکہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بندرگاہ الحدیدہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا حوثیوں کا مطالبہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔

 

انصار اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن کا محاصرہ ختم نہ کیا تو وہ میزائل حملے جاری رکھیں گے، بحری ناکہ بندی برقرار رکھیں گے، اور سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات ان کے اہم اہداف میں شامل رہیں گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P