کوئٹہ (آن لائن ) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بارش اور سردی کا سلسلہ جاری ہے تاہم شہری گیس کی عدم فراہمی اور غیر ضروری بندش کی وجہ سے روز مرہ کے امور کی انجام دہی اور خواتین کو امور خانہ داری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے گیس کی ترسیل کے نئے شیڈول سے قبل بھی کوئٹہ میں ایل پی جی گیس کا مصنوعی بحران پیدا کرکے اوگرا کی جانب سے 304.12 روپے فی کلو ایل پی جی گیس کی فروخت کی بجائے دکانداروں نے 550 سے زائد میں فی کلو فروخت کرکے شہریوں کو لوٹنا شروع کردیا ہے تا حال انتظامیہ سرکاری نرخ پر ایل پی جی گیس کی فروخت کو یقینی نہیں بناسکی جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کوئٹہ میں گیس کی فراہمی اور لوڈ شیڈنگ کا نیا شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق گیس کی فراہمی صبح 6 بجے سے 10 بجے تک دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک اور شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی فراہمی ہوگی۔ اور شہری دیئے گئے اوقات کار کے مطابق اپنی ضروریات کا پیشگی انتظام کرلیں۔ گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں ، پہاڑوں پر برفباری او ر مختلف علاقوں میں ژالہ باری اور کوئٹہ میں بارش کے باعث تا حال موسم سرد ہے اس دوران کوئٹہ طول و ارض میں گیس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے غیر اعلانیہ بندش کے باعث عوام کو شدید دشواری کاسامنا کرنا پڑرہا ہے گیس کی بندش سے خواتین کو امور خانہ داری اور دیگر شہریوں کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہے جبکہ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی گیس کی قیمت 304.12روپے فی کلو فروخت کرنے کا سرکاری نرخ مقرر کر رکھا ہے لیکن گیس کے نئے شیڈول سے قبل ہی شہر میں ایل پی جی گیس کا مصنوعی بحران پیدا کرکے دکانداروں نے سرکاری ریٹ کی بجائے 550 روپے میں ایل پی جی گیس کی فروخت کرکے شہریوں کو لوٹنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے ضلعی انتظامیہ تا حال گراں فروشوں اور مہنگے داموں ایل پی جی گیس فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ شہر میں مہنگے داموں ایل پی جی گیس فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرکے ریلیف دیا جائے۔
You might also like