انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچستانیت سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں، ریاست پاکستان کا موقف اس معاملے پر نہایت واضح اور دوٹوک ہے، اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کا ہر حد تک پیچھا کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان دہشت گرد کارروائیوں کو افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی حملے کی تمام منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی، جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی بھارت کروا رہا ہے۔ ان کے بقول سوال یہ ہے کہ یہ سب کون کروا رہا ہے، اور اس کا جواب واضح ہے کہ یہ سب بھارت کروا رہا ہے۔
