خضدار،لیمارکیٹ کراچی میں مسافر کوچوں کی بندش دو سال سے مسافر شدید مشکلات کا شکارہے تفصیلات کے مطابق خضدار سے کراچی آنے اور جانے والی مسافر کوچوں کی لیمارکیٹ میں بندش
مورخہ 2026-7-8
خضدار(بیورورپورٹ)خضدار،لیمارکیٹ کراچی میں مسافر کوچوں کی بندش دو سال سے مسافر شدید مشکلات کا شکارہے تفصیلات کے مطابق خضدار سے کراچی آنے اور جانے والی مسافر کوچوں کی لیمارکیٹ میں بندش کا مسئلہ دو سال سے جوں کا توں برقرارہےجس کی وجہ سے سینکڑوں مسافروں کو روزانہ شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہاہے عوامی حلقوں نےکہا کہ کراچی پولیس خضدار کے مسافر کوچوں کو لیمارکیٹ تک جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہےاور انہیں راستے میں ہی یوسف گوٹھ پر اتار دیا جاتا ہے اس عمل سے نہ صرف خواتین بچوں اور بزرگ مسافروں کو شدید مشکلات پیش آرہی ہیں بلکہ سامان کی منتقلی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے مسافروں کا کہنا ہے کہ یوسف گوٹھ پر رات کے وقت اترنے سے سیکیورٹی کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں اور وہاں سے لیمارکیٹ تک پہنچنے کے لیے اضافی کرایہ اور وقت دونوں ضائع ہورہے ہیں ٹرانسپورٹرز نے شکایت کی ہے کہ یہ مسئلہ دو سال سے التوا کا شکار ہے اور متعدد بار اعلی حکام کوآگاہ کرنےکے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی انہوں نے مطالبہ ہے کہ خضدار کے کوچوں کو دوبارہ لیمارکیٹ تک باقاعدہ اجازت دی جائے تاکہ مسافروں کو سہولت مل سکے عوامی حلقوں نے وزیر اعلی سندھ سہد مراد علی شاہ وزیر اعلی بلوچستان اور آئی جی سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےان کا کہنا ہے کہ دونوں صوبوں کے درمیان آمدورفت کا یہ دیرینہ مسئلہ جلد حل کیا جائے تاکہ عام مسافروں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خضدار(بیورورپورٹ)خضدار میں ایل پی جی گیس کے نرخ پرعدم توجہی کے باعث منافع خور دکاندار عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے ہیں شہر بھر میں ایرانی ایل پی جی گیس 350 روپئے فی کلوکے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے گزشتہ چند ہفتوں سے گیس کی قیمتوں میں بےمصنوعی اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کا بجٹ مکمل طور پر درہم برہم کردیا ہےضلع بھر میں قیمتوں کا کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں اور دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں بعض علاقوں میں تو گیس سلنڈر بھی مقررہ وزن سے کم بھرکر مہنگے داموں فروخت کیے جارہے ہیں جس پر کوئی پوچھنے والا نہیں عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر خضدار اور اسسٹنٹ کمشنر خضدار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےانکا کہنا ہے کہ اگر فوری کاروائی نہ کی گئی تو سردیوں میں غریب طبقے کے لیے کھانا پکانا بھی مشکل ہو جائے گاانہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی ٹیمیں تشکیل دے کر منافع خوروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائےعوام نے کہا کہ انتظامیہ گراں فروشوں کے خلاف کاروائی کرکے عام شہریوں کو ریلیف فراہم کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خضدار(بیورورپورٹ)جھالاوان ایکشن کمیٹی خضدار کے ترجمان نے کہاہیکہ ٹیچنگ ہسپتال خضدار کے ایمرجنسی ڈریسنگ روم میل و فیمیل وارڈز اور واش رومزکی انتہائی ابتر ناقص صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکام کی مبینہ غفلت کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامناہے ترجمان نے کہا کہ نئے تعمیرات پر کروڑوں روپئے خرچ کرنا اور اسے ترقی کا نام دینا ہرگز عوامی خدمت نہیں بلکہ اصل ضرورت موجودہ ہسپتال میں صفائی پانی، ادویات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہےترجمان نے کہا ذرائع سے معلوا ہواہے کہ تقریباً 58 کروڑ روپئے کی رقم نئی تعمیرات کے لیے منظورکی گئی ہے جبکہ چند روز قبل ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کو رہائشی کوارٹرز ایک ہفتے کے اندر خالی کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ انہیں منہدم کرکے نئے تعمیرات کی جائیں ترجمان نے کہاجھالاوان ایکشن کمیٹی خضدار واضح کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں نئے عمارتوں کے بجائے پہلےسے موجود ہسپتال کو مکمل طور پر فعال صاف ستھرا اور معیاری سہولیات سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہےٹیچنگ ہسپتال خضدار میں فوری طور پر معیاری اور وافر ادویات فراہم کی جائیں ہسپتال میں پانی کے سنگین بحران کے خاتمے کے لیے فوری طور پر ٹینکروں کے ذریعے مسلسل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ترجمان نے آخرمیِں کہا ہے اگر عوام کو فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا اور مذکورہ مسائل حل نہ کیے گئے تو کمیٹی عوام کے ساتھ ملکر احتجاج کریں گے۔
