پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بجٹ سے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کی جارہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی کا سلسلہ جاری ہے، خیبرپختونخوا میں نفرت کی سیاست کرنے والوں کا مثبت سیاست سے مقابلہ کریں گے، آج پاکستان کو تاریخی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی مہنگائی،غربت ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے، دن بدن حالات بگڑ رہے ہیں، اگرسیاست دان سنجیدگی سے مسائل حل نہیں کریں گے توعوام کے ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے عوام کے مسائل حل کریں، اس وقت پورے پاکستان میں مثبت سیاست کا فقدان ہے، نفرت، انا، گالم گلوچ کی سیاست خیبرپختونخوا میں عروج پر ہے، غیرجمہوری سیاست کا سیاسی اندازمیں مقابلہ کرنا پڑےگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افسوس خیبرپختونخوا سے لیکر بلوچستان تک پھر دہشت گردی سراٹھا رہی ہے، حکومت نے آپریشن کے حوالے سے اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا، ہم مثبت اندازمیں اے پی سی میں اپنا وفد بھیجیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی کا ہم سب نےملکرمقابلہ کرنا ہے، ہمارا تومؤقف تھا بجٹ میں بھی اتفاق رائے سے بنایا جائے، دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی میں بھی اتفاق رائے ہونا چاہئے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکی، میں نہیں سمجھتا دورہ افغانستان سے مسائل حل ہوجائیں گے، ایسا نہیں ہے جہازمیں بیٹھ کر جائیں اور افغانستان کے ساتھ سارے مسئلے حل ہوجائیں گے، افغانستان میں جاکرایک چائےکا کپ بھی پیا گیا تھا،
انہوں نے کہا کہ ڈپلومیسی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، اس وقت وزیر خارجہ ہوتا تو ضرورکابل پہنچتا، پاک،افغان مسائل حل ہونے سے دونوں ممالک کی عوام کوفائدہ ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کو معاشی اور سکیورٹی صورتحال کا بھی مسئلہ درپیش ہے، بہادر افواج نے دہشتگردوں کو تاریخی شکست دی، ہمسایہ ملک کی پوری فوج ناکام ہوئی تو بارڈر کے اس پار پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں نے دہشتگردوں کی کمر کی ہڈی توڑی۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ایجنسیز چاروں صوبوں میں قربانیاں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے، ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئیںں اس سے انکار نہیں ہے، وزیراعظم نے یقین دیانی کرائی ہے پی ایس ڈی پی میں جو بھی فیصلے ہوں گے اس پر وہ ہمیں اعتماد میں لیں گے، ہمارے ایشوز کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے دورے سے ہمارے مسئلے حل نہیں ہوسکتے، وزرائے خارجہ لیول پر دورے جاری ہیں، چین، پاکستان اور افغانستان کو میں نے ایک ٹیبل پر بٹھایا تھا، افغانستان کے مسائل کا حل افغان حکومت کے پاس نہیں۔