سپریم کورٹ آف پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے فیصلہ قابل تعریف ہے، نواب ثناءاللہ زہری – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے فیصلہ قابل تعریف ہے، نواب ثناءاللہ زہری

کوئٹہ (آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماءاراکین صوبائی اسمبلی نواب ثناءاللہ خان زہری ، میر محمد صادق عمرانی، صوبائی صدر میر چنگیز جمالی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے دیئے جانے والے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 45 سال بعد ان کو عدالتی قتل کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کی گئی ہے کہ انہیں شہید کیا گیا اور وہ ہمارے قومی ہیرو ہے آج بلوچستان اسمبلی میں انہیں شہید اور قومی ہیرو قرار دینے کے لئے قرار داد پیش کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی علی مدد جتک ، روزی خان کاکڑ ، سردار سربلند خان جوگیزئی، آغا شکیل درانی سمیت دیگر رہنماءبھی موجود تھے۔ نواب ثناءاللہ زہری نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 9 رکنی بینچ نے پیپلزپارٹی کے سربراہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے اس کو ہم سراہتے ہیں جو عدالتی فیصلہ آیا ہے اس نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے کہ ہم شروع دن سے ہی ذوالفقار علی بھٹو کودی جانے والی پھانسی کو عدالتی قتل کہتے ہیں اور ہمارے قائد کو شہید کیا گیا جس کا واضح موقف کی تائید جسٹس نسیم حسن شاہ کے اختلافی نوٹ نے بھی ثابت کردیا کہ ہم پر دباﺅ تھا اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت کے رجیم کا بھی عدالت پر دباﺅ کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی کا قتل کرایا گیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ کرکے ثابت کیا ہے کہ عدلیہ کے غلط فیصلوں کی بھی نشاندہی کی ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے قابل نفرت ہے اور عدالتی فیصلے نے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے موقف کی تائید کی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل تھا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا شکر گزار ہے کہ جنہوں نے 45 سال بعد فیصلہ دیا اور آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے حوالے سے ریفرنس بھیجا تھا جس پر یہ فیصلہ آیا۔رکن صوبائی اسمبلی میر صادق عمرانی نے کہا کہ 5 جولائی 1977ءکو شہید ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا جس کے خلاف پیپلزپارٹی اور عوام نے ملک بھر میں احتجاج کیا اور یہ تاریخی جدوجہد آج تک جاری ہے جدوجہد کی پاداش میں پیپلزپارٹی کے جیالوں، ورکروں کو پابند سلاسل رکھ کر کوڑے مارے گئے مجھے بھی 9 سال پابند سلاسل رکھا گیا انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی آئین کی بحالی، عدلیہ کی بالادستی کی جدوجہد آج بھی جاری ہے زور زبردستی اس آواز کو دبایا نہیں جاسکتا انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے نے ثابت کیا کہ 45 سال قبل شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تھا اور آج عدالت نے اپنے فیصلے سے ثابت کردیا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی پاداش میں ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی شہید ذوالفقار علی بھٹو ہمارے قومی ہیرو ہیں جو اس وطن کی خاطر شہید ہوئے ہیں انہیں سرکاری سطح پر شہید کا درجہ دیا۔ صوبائی صدر چنگیز جمالی نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں صاف اور شفاف ٹرائل نہ ہونے کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے وہ تاریخی فیصلہ ہے کہ بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا ان کا کہنا ہے کہ اراکین صوبائی اسمبلی آج ہونے والے اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کو قومی ہیرو اور شہید قرار دینے کے حوالے سے قرار داد پیش کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں نواب ثناءاللہ زہری کا کہنا تھا کہ جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ کا کہنا ہے کہ ہم پر بہت دباﺅ اور پریشر اس کا رجیم اور اسٹیبلشمنٹ عدالتی معاملات پر دباﺅ ڈال رہی تھی جس سے ظاہر ہے کہ اس وقت کا رجیم عدالتی فیصلوں پر ہاوی تھا ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں اتحادی حکومت ہے اتحادیوں کی مشاورت سے بہت جلد کابینہ تشکیل دیکر دوسرے معاملات بہتر بنالئے جائیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.