خضدار ماضی کے چیلنجز سے مستقبل کی رہداری تک ۔
تحریر، منیراحمد زہری
خضداربلوچستان کے دل میں واقع ایک ایسا شہر ہے جو صدیوں پرانی تاریخی جغرافیائی اہمیت اور جدید دور کی ترقیاتی منازل کے درمیان ایک منفرد سفر سے گزر رہا ہے یہ شہر نہ صرف اپنی ثقافتی ورثے اور قبائلی روایات کا امین ہے بلکہ آج یہ سندھ اور مکران کو ملانے والی شاہراہوں کا مرکز بن کر ایک اہم تجارتی اور مواصلاتی جنگشن کی حیثیت اختیار کر چکا ہےخضدار کی تاریخ اگرچہ شاندار ہے لیکن اسے ہمیشہ سے کچھ بنیادی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ماضی میں یہ شہر قبائلی تنازعات پسماندگی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے چیلنجز سے دوچار رہا ہےتعلیم صحت اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے اس علاقے کی ترقی کی رفتار کو سست رکھادور دراز کے علاقوں میں مواصلاتی نظام کا فقدان اور سڑکوں کی خستہ حالی نے بھی شہری علاقوں کے ساتھ دیہی آبادی کے رابطے کو کمزور کیا خضدارمیں سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی صورتحال نے بھی سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا یہی وجہ تھی کہ خضدار طویل عرصے تک اپنی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے قاصر رہا یہ مسائل صرف سرکارکی سطح پر نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی موجود رہے جہاں شعور کی کمی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے عوامل نے بھی اپنا کردار ادا کیا آج خضدار ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے جہاں یہ تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اس کا اسٹریٹیجک محل وقوع ہے جس نے اسے جدید مواصلاتی اور تجارتی راہداریوں کا مرکز بنا دیا ہےخضدار کو کاروباری حوالے سے ڈی پورٹ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ یہ جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے بلوچستان کے اندرونی علاقوں کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالکوں تک بھی تجارتی رسائی فراہم کرتی ہےیہاں سے سامان کی ترسیل اور وصولی کا نظام بہتر ہونے سے مقامی کاروبار کو فروغ مل رہا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔خضدار کو سندھ اور مکران (گوادر پورٹ) کو ملانے والی اہم شاہراہوں کے سنگم پر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔چاروں اطراف سے گزرنے والی یہ قومی شاہراہیں نہ صرف مقامی تجارت کو فروغ دے رہی ہیں بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں بھی اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ یہ شہر اب گوادر سے شروع ہونے والی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ایک کلیدی ٹرانزٹ پوائنٹ بن چکا ہےیہ سڑکیں سامان کی نقل و حمل کو تیز اور سستا بنا رہی ہیں جس سے کاروباری لاگت میں کمی آ رہی ہےوقت کے ساتھ ساتھ خضدار میں بنیادی ڈھانچے میں بھی بہتری آرہی ہے نئی سڑکیں تعلیمی ادارے اور صحت کی سہولیات قائم کی جارہی ہیں شہر میں جدید تعلیمی اداروں کی موجودگی سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع مل رہے ہیں بلکہ دیگر شہروں سے بھی طلباء یہاں کا رخ کر رہے ہیں شاہراہوں کے بہتر ہونے اور ڈی پورٹ کی حیثیت ملنے سے خضدار میں تجارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں نئی منڈیاں،کاروباری مراکز اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر سے شہر کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہواہےسرمایہ کار اب اس شہر کو ایک پرکشش مقام کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں انہیں بہتر لاجسٹک اور مواصلاتی نیٹ ورک کی سہولت میسر ہےان تمام ترقیاتی منازل کے باوجود خضداراور گردنواع کے تحصیلوں کو اب بھی کچھ چیلنجز کا سامنا ہے۔ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، تعلیم اور صحت کے معیار کو مزید بلند کرنے اور صاف پانی و بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ یہ ترقی پائیدار ہو سکےخضدار ایک ایسا شہر ہے جو اپنے ماضی کے مسائل سے نکل کر ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہے اس کا اسٹریٹیجک اسے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہےمناسب منصوبہ بندی اور مسلسل کوششوں سے خضدار مستقبل میں ایک مثالی تجارتی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہےخضدارایک شہر سے بڑھ کر بلوچستان کی ثقافتی اور جغرافیائی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے یہ نہ صرف تجارتی شاہراہوں کا مرکز ہے بلکہ صدیوں پرانی بلوچ ثقافت، قبائلی اقدار اور علاقائی روایات کا بھی امین ہےخضدار کی روح اس کے قبائلی ڈھانچے اور قدیم روایات میں بستی ہے یہاں کے لوگ اپنی مہمان نوازی، روایتی بلوچ لباس موسیقی اور رقص (جیسے جھومر) کے لیے مشہور ہیں یہ علاقہ بلوچ قبیلوں بالخصوص زہری، مینگل، بزنجو، ساسولی، شیخ جاموٹ اور دیگر اہم قبائل کا گہوارہ رہا ہے جن کی تاریخ اور روایات نے شہر کی ثقافت کو منفرد رنگ بخشے ہیں لوک کہانیاں شاعری اور بلوچی موسیقی یہاں کی ثقافت کا اٹوٹ انگ ہیں جو آج بھی زندہ ہیں بلوچی زبان اور اس کی مختلف بولیاں یہاں بولی جاتی ہیں جو ثقافتی تنوع کی عکاس ہیں عیدین شادی بیاہ اور دیگر خوشیوں کے مواقع پر روایتی رسم و رواج اور رنگارنگ محفل شہر کو ایک خاص رونق بخشتی ہیں ماضی میں خضدار میں تعلیمی سہولیات کا فقدان تھالیکن اب یہ صورتحال تبدیل ہو رہی ہےبلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (BUET Khuzdar) جھالاوان میڈیکل کالج شہید سکندریونیورسٹی کیمپس جھالاوان میڈیکل کالج جیسے ادارے اس شہر کوایک تعلیمی مرکز کے طور پر ابھار رہے ہیں یہ یونیورسٹیاں نہ صرف انجینئرنگ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم فراہم کر رہی ہے بلکہ مقامی نوجوانوں کو تکنیکی مہارتیں سکھا کر انہیں روزگار کے قابل بھی بنا رہی ہےاس کے علاوہ کالجز اور سکولز کا جال بھی پھیل رہا ہے جو شرح خواندگی میں اضافے کا باعث بن رہا ہےتعلیم کا فروغ نہ صرف غربت کے خاتمے میں مدد دے رہا ہے بلکہ یہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھ کر انہیں مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہےخضدار کو آج بھی پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے اور بارشوں کا انحصار ناکافی ہےاس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چیک ڈیمز کی تعمیرپانی کے بہتر انتظام اور شہریوں میں پانی کے استعمال کی آگاہی پھیلانا انتہائی ضروری ہےجدید آبپاشی کے طریقوں کو اپنا کر زراعت میں پانی کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے شہرمیں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہ صرف عام زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی اداروں کے کام میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ نئے پاور پلانٹس کی تنصیب بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا اور شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہےاگرچہ بڑے شہروں کے مقابلے میں خضدار میں صحت کی سہولیات بہتر ہوئی ہیں تاہم اب بھی اسپتالوں میں عملے کی کمی، جدید آلات کی عدم دستیابی اور دور دراز علاقوں تک طبی سہولیات کی رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ موبائل ہیلتھ یونٹس کا قیام اور سرکاری اسپتالوں کی اپ گریڈیشن سے اس صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔خضدارشہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر بہتر شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ غیر منظم تعمیرات اور ٹریفک کے مسائل شہر کی خوبصورتی اور کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں ایک جامع ماسٹر پلان کے تحت شہر کی ترقی سرسبز علاقوں کا قیام اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔خضدار میں زرعی معدنی اور تجارتی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں مقامی صنعتوں کو فروغ دینے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مراعات دینے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکیں خضدار کا مستقبل اپنی جغرافیائی اہمیت، سی پیک روٹس سے قربت اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے باعث خضدار کا مستقبل روشن نظر آتا ہے اگر موجودہ چیلنجز سے موثرطریقے سے نمٹا جائے اور حکومتی پالیسیاں مقامی ضروریات کے مطابق بنائی جائیں تو خضدار نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک رول ماڈل شہر بن سکتا ہے یہ شہر اپنی تاریخ ثقافت اور جدید ترقی کا حسین امتزاج پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اس شہرکو مزید منفردرنگ بخشنے کیلئےجدید مواصلاتی اور تجارتی راہداریوں کامرکزبنانے کی اہم ضرورت ہے اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔
