بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی غیر موجودگی میں چھ ماہ قید کی سزا سنا دی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے گزشتہ سال اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ پہلا عدالتی فیصلہ ہے۔
77 سالہ حسینہ واجد نے اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد ہمسایہ ملک بھارت میں پناہ لے لی تھی اور انہوں نے ڈھاکا واپس آنے کے عدالتی احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وہ جس دن بنگلہ دیش واپس آئیں گی یا عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گی، اسی دن سے سزا کا اطلاق ہوگا۔
یہ مقدمہ اُن بیانات کے گرد گھومتا ہے جو استغاثہ کے مطابق شیخ حسینہ نے اقتدار سے محرومی کے بعد دیے تھے اور جنہیں گواہوں کے لیے دھمکی آمیز قرار دیا گیا۔