ڈونالڈ ٹرمپ نے سزائے موت کے تقریباً ہر امریکی وفاقی قیدی کی سزا کو تبدیل کرنے پر امریکی صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ نو منتخب صدر وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹ رہنما کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدے کے آخری ماہ کے دوران گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ پرول کے امکان کے بغیر وفاقی سطح پر پھانسی کے منتظر 40 قیدیوں میں سے 37 کی سزائے موت کو عمر میں تبدیل کر رہے ہیں۔
ان میں 9 وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں ساتھی قیدیوں کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، 4 مجرموں نے بینک ڈکیتیوں کے دوران کیے گئے قتل کیے جب کہ ایک مجرم نے جیل کے محافظ کو قتل کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ جو بائیڈن نے حال ہی میں ہمارے ملک کے 37 خطرناک قاتلوں کی سزائے موت ختم کردی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب آپ یہ سب حرکتیں سنتے ہیں تو آپ کو یقین نہیں آتا کہ انہوں نے ایسا کردیا ہے، سمجھ سے بالا تر ہے، رشتے دار اور دوست صدمے کی کیفیت میں ہیں، انہیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہو رہا ہے۔