صحبت پور : ضلع صحبت پور اور اس کی مختلف تحصیلوں میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے دعوی کیا ہے کہ خود ساختہ مہنگائی کے باعث ضلع کے بیشتر شہری شدید مالی دبا کا شکار ہیں جبکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق صحبت پور، تحصیل پہنور سنہڑی، مانجھی پور، سعید خان کنرانی، حیدر دین، فرید آباد اور سب ڈویژن ضیا خان کھوسو سمیت مختلف علاقوں میں بکرے کے گوشت کی قیمت تین سے چار ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ٹماٹر چار سے پانچ سو روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ پیاز، آلو اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں پرائس کنٹرول کمیٹی عملا غیر فعال دکھائی دیتی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث تقریبا 90 فیصد عوام شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں اور کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔انہوں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع صحبت پور میں خود ساختہ مہنگائی کا فوری نوٹس لیا جائے، پرائس کنٹرول نظام کو فعال بنایا جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
You might also like
