کوئٹہ (سٹی رپورٹر) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کئی عوامل کار فرما ہیں افغانستان اور ایران کے ساتھ ایک طویل بارڈر ہے جہاں سے لوگ باآسانی آ جا سکتے ہیں۔دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا موقف بہت واضح ہے کہ طالبان بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی مدد اور انڈیا دہشت گردوں کو فنڈنگ کررہا ہے اور افغانستان کی سر زمین ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ پاکستان نے بار بار مختلف قومی اور بین الاقوامی فورم سے افغانستان سے درخواست کی ہے کہ افغانستان ہمارا بردار اسلامی ملک ہے ہمارے اور آپ کے اسلامی ثقافتی رشتے ہیں ہماری سرزمین کے خلاف سازشیں نہ کریں۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔ حکومت سانحہ اوڑک اور زیارت کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔یہ بات انہوں نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ میر ضیائ لانگو نے کہا ہے کچھ عرصے سے طالبان شعبان اور دیگر علاقوں میں آئے اور یہاں کے قبائلی لوگوں کو دھمکیاں دیں کہ یہ علاقے خالی کریں تاکہ ہم یہاں بس جائیں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کریں دہشت گردوں نے مقامی لوگوں کو تنگ کیا اور کچھ لوگوں کو مارا بھی صوبائی حکومت نے وقت ضائع کیے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا وزیر اعلی نے مجھے کہا اور میں نے ایف سی سمیت سیکورٹی فورسز کے ساتھ علاقے کی جانب روانہ ہوئے حالات کا جائزہ لیا زیارت اور ہنہ اوڑک کے واقعات کے بعد صوبائی حکومت لواحقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے لواحقین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت آپ کو تحفظ،شہدائ کا بد لہ ان کے بچوں کی کفالت کرے گی۔اس کے بعد زیارت کا دل ہلادینے والا واقعہ پیش آیا اور زیارت گئے اور دیکھا کہ پولیس کے جوان ہمارے بھائیوں کو شہید کیا گیا ہے موقع پر پہنچ کر اجلاس کرکے پولیس آفیسران کو سنا اور کچھ کراس پر وزیر اعلی بلوچستان اوروزرائ نے دورہ کیا جنازوں میں شرکت کی۔ مقامی لوگوں اور لواحقین نے آفیسران کی کوتاہیوں کی شکایت کی حکومت نے اعلی آفیسر کو نہ صرف معطل کیا اور اعلی سطح کی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی انہوں نے کہا کہ جہاں دھرنے کی بات ہے یہ سیاسی جماعتوں اور لواحقین کا جمہوری حق ہے ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے ہم مسلسل انکے ساتھ رابطے میں ہے ان کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس پر غور کرہے ہیں۔ شہدائ ہمارے ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ہم کوئی چیز نہیں چھپائیں گے ان کے ساتھ جوڈیشل کمیشن پر اتفاق کرتے ہوئے بنایا ہے انہوں نے کہا کہ شہدا معاوضے کے آرڈر بھی جاری کئے گئے۔ اس ظلم کے خلاف ہر حد تک جاکر اس کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا احتجاج ضرور کریں لاشوں پر سیاست نہ کریں سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف بر سر پیکار ہے علاقے میں آپریشن جاری ہے اب تک 126کے قریب دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا ایک سیکورٹی اہلکار شہید ہوا اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ ہم اور افغانستان ایک دوسرے کے ہمسایہ ملک ہے ں ایک دوسرے کے نفع نقصان سے باہر نہیں نکل سکتے۔ ہم سب سیاسی جماعتوں کو متفق ہوکر یہاں سے افغان مہاجرین کو نکالنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے جان و مال اور ملک کے تحفظ کیلئے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ چالیس سال ان کی خدمت کی لیکن افغان ریاست حکومت اپنے مہاجرین کا اور نہ ہی پاکستان کا خیال رکھ رہا ہے۔
You might also like
