خضدار(بیورورپورٹ)خضدار کی سرزمین ایک بار پھر فٹبال کے رنگوں سے جگمگا اٹھی پہلا آل سندھ بلوچستان میر حاصل خان بزنجو فٹبال ٹورنامنٹ کے سلسلے میں پیرکے روز بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اسٹیڈیم میں تین اہم میچز کھیلے گئےاسٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی تین سال کے طویل وقفے کے بعد خضدار میں منعقد ہونے والے اس بڑے ایونٹ نے شہر کےکھیل کے ماحول کو نئی زندگی بخش دی دن کا آغاز فیروز آباد الیون اور شوکت شہید کلب کے درمیان کانٹے دار مقابلے سے ہوادونوں ٹیموں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن قسمت نے فیروز آباد الیون کا ساتھ دیا فیروز آباد الیون نے 0-1 کے معمولی مارجن سے میچ اپنے نام کرلیامیچ کے دوران دفاعی کھیل نمایاں رہا اور گول کیپرز نے کئی یقینی گول بچائے۔ دوسرا میچ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضداراور بابائے بلوچستان کلب نال کے درمیان کھیلا گیامقررہ وقت تک دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کرسکیں اور مقابلہ 0-0 سے برابر رہافیصلہ پینلٹی ککس پرہواجہاں بی یو ای ٹی خضدار نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کی میچ کے بہترین کھلاڑی بی یو ای ٹی خضدار کے بجار بلوچ قرار پائےبجار بلوچ نے شاندار مڈفیلڈ کھیل پیش کیا اور ٹیم کو جوڑے رکھاسینئر کھلاڑی صدیق جھالاوان نے مین آف دی میچ بجار بلوچ کو شیلڈ پیش کی اس موقع پر شائقین نے تالیوں سے کھلاڑی کو داد دی۔تیسرا اور آخری میچ نواب شہید مستونگ اور آزاد فقیران فٹبال کلب نوشکی کے مابین ہوایہ میچ سب سے زیادہ دلچسپ رہا جس میں مجموعی طور پر تین گول ہوئےآزاد فقیران فٹبال کلب نوشکی نے 1-2 سے کامیابی حاصل کرکے اگلے راو¿نڈ کے لیے کوالیفائی کر لیانوشکی کی ٹیم نے بہترین پاسنگ اور تیز حملوں سے حریف دفاع کو پریشان کیے رکھامیچ کے بہترین کھلاڑی نصیب اللہ قرار پائے جنہوں نے ایک گول اسکور کیا اور ایک اسسٹ کی نصیب اللہ نے اپنی شیلڈ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے سپرنٹنڈنٹ ندیم رخشانی سے وصول کی ندیم رخشانی نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور ٹورنامنٹ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا میچز کے اختتام پر ٹورنامنٹ آرگنائزر رئیس بشیراحمد مینگل، عابد شاہوانی، ناصر کمال ودیگر نے میڈیا سے گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ تین سال بعد خضدار میں آل سندھ و بلوچستان ایونٹ کا انعقاد سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کی خصوصی دلچسپی کا نتیجہ ہےرئیس بشیر احمد مینگل نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی کوششوں سے خضدارکے شائقین کو فٹبال کا یہ تحفہ ملا ہےانہوں نے وعدہ کیا کہ ان شائ اللہ آئندہ بھی خضدارکے فٹبال لورز کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں گےآرگنائزررئیس بشیراحمد مینگل نے شائقین سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسٹیڈیم آکر ٹورنامنٹ کو کامیاب بنائیں ان کا کہنا تھا کہ شائقین کی شرکت ہی فٹبال دوستی کا اصل ثبوت ہے ٹورنامنٹ کمیٹی نے کل کے میچوں کا شیڈول جاری کردیا۔ٹورنامنٹ کمیٹی کے مطابق منگل کے روز بھی تین میچز کھیلے جائیں گے پہلا میچ ٹھیک 11 بجے ابراری کلب بسیمہ اور مرحوم اورنگزیب کلب پنجگور کے درمیان ہوگادوسرا میچ دن 1 بجے آزاد فقیران فٹبال کلب نوشکی کا مقابلہ اے آر ایم اکیڈمی حب چوکی سے ہوگاتیسرا اور دن کا آخری میچ شام 4 بجے ضیائ جان فٹبال کلب سوراب اور نیشنل کلب خضدار کے درمیان کھیلا جائے گا آخری میچ کے مہمان خصوصی بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) خضدار کے ضلعی آرگنائزر منیراحمد زہری ہوں گےانتظامیہ نے تمام ٹیموں کو وقت کی پابندی کی ہدایت کی ہے۔ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اسٹیڈیم میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھےپولیس اور انتظامیہ کے اہلکار گراو¿نڈ کے اندر اور باہر تعینات رہےشائقین کے لیے پینے کے پانی اور ابتدائی طبی امداد کا بندوبست بھی موجود تھاکمنٹیٹرز عبدالستار قلندرانی ودیگرنے براہوئی اور اردو دونوں زبانوں میں کمنٹری کرکے میچ کو مزید دلچسپ بنایا۔فٹبال ٹورنامنٹ کےآرگنائزنگ کمیٹی نے کہا تین سال بعد خضدار میں فٹبال کی بحالی پرکھلاڑیوں اور شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہےتمام میچز میں کھیل کے اعلیٰ معیار اور سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کیاگیاشہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ایونٹس تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جائیں تاکہ نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور رہیں اورٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے کے میچز مزید سنسنی خیز ہونے کی توقع ہے۔
You might also like