کوئٹہ میں عید الفطر کی آمد، بازاروں میں رونق مگر مہنگائی سے غریب عوام پریشان – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

کوئٹہ میں عید الفطر کی آمد، بازاروں میں رونق مگر مہنگائی سے غریب عوام پریشان

کوئٹہ:عید الفطر کی آمد میں چند روز باقی رہ گئے ہیں اور شہر کے مرکزی بازاروں، کپڑوں کی مارکیٹوں، جوتوں کی دکانوں اور مٹھائی فروشوں کے ہاں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شام ڈھلتے ہی شہر کی بڑی مارکیٹیں روشنیوں سے جگمگا اٹھتی ہیں اور لوگ عید کی خریداری کے لیے گھروں سے نکل آتے ہیں۔ بچوں اور خواتین میں عید کی تیاریوں کا جوش و خروش واضح نظر آتا ہے، تاہم اس بار بازاروں کی رونق کے باوجود ایک تلخ حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے۔مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے‘ بڑی تعداد میں ایسے شہری بھی بازاروں کا رخ کر رہے ہیں جو صرف قیمتیں دیکھ کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق اس سال خریدار تو آ رہے ہیں مگر خریداری کم ہو رہی ہے کیونکہ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔شہر کی معروف کپڑوں کی مارکیٹوں میں خواتین اور مرد حضرات عید کے ملبوسات دیکھتے تو ہیں مگر زیادہ تر لوگ قیمت سن کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سال کپڑوں، جوتوں، بچوں کے ملبوسات اور مٹھائیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے عید کی خوشیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔کئی شہریوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی قدرتی نہیں بلکہ مصنوعی طور پر پیدا کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض تاجر عید کے موقع پر ناجائز منافع خوری کرتے ہوئے اشیاءکی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیتے ہیں، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔بازاروں میں آنے والے ایک شہری نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کپڑے خریدنے آیا تھا مگر قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ خریداری ممکن نہیں رہی۔ اسی طرح ایک خاتون کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال جس کپڑے کی قیمت تین ہزار روپے تھی وہ اب پانچ سے چھ ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عید کی خریداری انتہائی مشکل ہو گئی ہے‘دوسری جانب دکانداروں کا مو¿قف ہے کہ مہنگائی کی وجہ تھوک مارکیٹوں میں قیمتوں کا بڑھنا اور درآمدی اشیاءکی لاگت میں اضافہ ہے۔ ان کے مطابق بجلی، کرایوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کے باعث اشیاءمہنگی فروخت کرنا مجبوری بن چکی ہے۔شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عید سے قبل خصوصی پرائس کنٹرول مہم شروع کی جائے تاکہ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کو روکا جا سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی ادارے بروقت کارروائی کریں تو عام شہری بھی عید کی خوشیوں میں بھرپور شریک ہو سکتے ہیں۔ماہرین معاشیات کے مطابق اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عید جیسے خوشیوں بھرے مواقع بھی عام لوگوں کے لیے مالی دباو¿ کا باعث بنتے رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ مارکیٹوں کی سخت نگرانی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔عید الفطر مسلمانوں کا خوشیوں اور یکجہتی کا تہوار ہے، مگر موجودہ مہنگائی نے بہت سے غریب خاندانوں کے چہروں کی خوشیاں ماند کر دی ہیں۔ شہری امید کر رہے ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کریں گے تاکہ ہر گھر میں عید کی خوشیاں یکساں طور پر محسوس کی جا سکیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.