تہران (ویب ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ’پیش رفت‘ ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے ہیں، ابھی تک کسی حتمی معاہدے سے بہت دور ہیں۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے مذاکرات میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی بہت سے خلا اور کچھ بنیادی مسائل ہیں جو حل طلب ہیں، امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا فیصلہ کرنا ہو گا اور انھیں ڈکٹیشن مسلط کرنے کا اپنا طریقہ کار ترک کرنا ہو گا۔
باقرغالیباف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران، 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھی جس میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ’امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے ، اگر ہم نے جنگ بندی کو قبول کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اُنھوں نے ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا ہے کیونکہ ہم نے زمین پر فتح حاصل کی۔
غالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکا اور یہ ایران ہی ہے جو آبنائے ہرمز پر اپنا سٹریٹجک کنٹرول رکھتا ہے۔