خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پولیس چوکیوں پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کی کوششیں ناکام بنا دی گئیں، جہاں پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی اور مستعدی کے باعث شرپسند عناصر کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
حکام کے مطابق الگ الگ واقعات میں دہشت گردوں نے رات کی تاریکی میں حملے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم پولیس نے انہیں ناکام بنا دیا۔
بنوں کے تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پولیس چوکی فتح خیل پر رات کے وقت دہشت گردوں کے ایک گروہ نے حملے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکار پہلے سے ہائی الرٹ تھے اور تھرمل کیمروں کے ذریعے چوکی کے اطراف مشکوک نقل و حرکت کا بروقت پتہ چلا لیا گیا۔
حکام کے مطابق تقریباً دو بجے کے قریب 15 سے زائد دہشت گردوں کی موجودگی کا سراغ ملا جو چوکی کے سامنے جنگل کے علاقے میں پوزیشن لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حملہ آور گھبرا کر اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
ڈی آئی جی بنوں ریجن نے واقعے کے بعد پولیس جوانوں کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جوانوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور اہلکاروں کی مستعدی نے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیے۔
حکام کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ ڈی آئی جی نے کارروائی میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اُدھر سخی پل پولیس چوکی پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق قبائلی ضلع خیبر کی سمت سے آنے والے دہشت گردوں نے چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہاں تعینات اہلکاروں کی بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
ایس پی وارسک کے مطابق پولیس جوان الرٹ تھے اور فوری ردعمل کے ذریعے بڑے حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے علاقے میں مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔