تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
ایرانی حکام کے اس نئے بیان کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے مشترکہ فوجی کمان کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب ایران صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمنوں کے خلاف زیادہ شدت اور تسلسل کے ساتھ اقدامات کیے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ترجمان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے ایک قطرہ تیل بھی امریکا، اسرائیل یا ان کے اتحادی ممالک تک جانے نہیں دے گا۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اس اہم بحری گزرگاہ میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور ایشیا کی معیشتوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی توانائی ضروریات اسی راستے سے پوری ہوتی ہیں۔