واشنگٹن:ایرانی حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث امریکی بحریہ فی الحال آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے ہاتھ کھڑے کردیے جبکہ پہلے ٹرمپ نے اپنے متعدد بیانات میں کہا تھا کہ تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی ہم فراہم کریں گے۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی شپنگ انڈسٹری مسلسل اس سلسلے میں درخواستیں کر رہی ہے، لیکن فی الحال بحریہ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً روزانہ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے بحری اسکواڈ کے ذریعے جہازوں کی حفاظت کی درخواستیں کی جا رہی ہیں، لیکن امریکی بحریہ نے موجودہ حالات کے تحت یہ خدمات فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے امریکی بحریہ نے شپنگ اور آئل کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی بریفنگز میں واضح کیا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت ممکن نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان سے مختلف ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا تجارتی جہازوں کو بحری تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
تجارتی جہازوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور سکیورٹی نہ ملنے کی صورت میں عالمی شپنگ اور آئل مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات پر غور کر رہے ہیں لیکن فی الوقت تجارتی جہازوں کے لیے براہِ راست اسکواڈ فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔