امریکی فوجیوں کو قیدی بنانے کی اطلاعات ہیں: علی لاریجا
سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے ایران کو پیغام دیا ہے کہ وہ تہران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے سفارتی حل کا حامی ہے، تاہم اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ریاض سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک نے ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، لیکن اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ امریکی مفادات اور تنصیبات ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والے حملوں کے بعد سے سعودی عرب اپنے سفیر کے ذریعے تہران سے مسلسل رابطے میں ہے۔