سفاک اور ظاہم صہیونی فوجیوں نے امداد لے کر جانے والے کم سن بچے کو بھی نہیں بخشا اور شہید کر دیا۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز ، وحشیانہ اور سفاک مظالم کا سلسلہ جاری ہے، اس کی گواہی امدادی مرکز پر ڈیوٹی انجام دینے والے امریکی سپاہی نے بھی دے دی، جس کی آنکھوں کے سامنے اسرائیلی فوج نے ایک معصوم فلسطینی بچے کو شہید کردیا۔
مڈل ایسٹ آبزرور کی ایکس پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ایک حالیہ امریکی پوڈکاسٹ میں ایک امریکی فوجی، جو غزہ میں ایک امدادی تقسیم مرکز پر تعینات تھا، نے اس دلخراش مگر ناقابل فراموش واقعے کی گواہی دی۔
یہ واقعہ امداد لینے کے لیے طویل فاصلہ طے کرکے آنے والے معصوم فلسطینی بچے کا ہے جسے اسرائیلی فوج نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی فوجی کی آنکھوں کے سامنے شہید کردیا تھا۔
امریکی فوجی نے پوڈ کاسٹ میں اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عامر، ایک کمزور سا بچہ، ننگے پاؤں دھوپ میں 12 کلومیٹر پیدل چل کر امدادی مرکز تک پہنچا تھا، اسے امدادی مرکز سے دال اور چاول کے پیکٹ ملے، وہ میرے پاس آیا، میرا ہاتھ چوما، اور کہا کہ ’شکریہ‘۔ چند منٹ بعد، جب وہ دیگر شہریوں کے ساتھ واپس جا رہا تھا، تو اسرائیلی فوج نے آنسو گیس اور گولیوں کی بارش کر دی، اور عامر وہیں موقع پر شہید ہو گیا۔‘