پاکستان دفتر خارجہ کی جانب سے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی سے متعلق اقوام متحدہ کے ماہرین کی تازہ رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے پیر کے روز بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جو رواں سال اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سامنے آئیں، جس کا الزام دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے اسلام آباد پر عائد کیا تھا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا پاکستان اقوام متحدہ کے سپیشل پروسیجرز کے ماہرین کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے حالیہ نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جو بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ رپورٹ ایک بار پھر بھارتی قبضے کے تحت کشمیری عوام کو درپیش شدید اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہے، اس میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے ان مشاہدات پر بھی شدید پریشانی کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 2800 افراد، جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں، کو حراست میں رکھا گیا ہے۔