بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

بھارت کو جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب

ہماری دنیا آج ہمیشہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے، انسانی بحران بڑھتے چلے جارہے ہیں، دہشت گردی ہنوز ایک بڑا خطرہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری دنیا آج ہمیشہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انتونیوگوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا آج ہمیشہ سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے، عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے، انسانی بحران بڑھتے چلے جارہے ہیں، دہشت گردی ہنوز ایک بڑا خطرہ ہے۔

انہوں کہا کہ ڈس انفارمیشن ایک فیک نیوز اعتماد اور یقین کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں ، موسمی تبدیلیاں ہماری بقا کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ملٹی لیٹرل ازم ایک آپشن نہیں رہا بلکہ یہ وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن مطابق امن، باہمی احترام، اور تعاون پر مبنی ہے، ہم مذاکرات اور سفاری کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشہ سال میں نے اسی فورم پر خبردار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا ، مشرقی سرحد سے بلااشتعال جارحیت کی گئی اور پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پہلگام کے واقعے پر ہماری شفاف اور غیرجانبدارانہ عالمی تحقیقات کی پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے ایک انسانی المیے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور ہمارے شہروں پر حملہ کردیا اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری علاقائی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی تو ہمارا جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع میں تھا،ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاندار قیادت میں حیرت انگیز پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور فہم و فراست کے ساتھ ایک آپریشن کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے شاہین فضا میں بلند ہوئے اور آسمانوں پر اپنا جواب ثبت کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت کے سات طیارے ملبے اور دھول میں بدل گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ برتری کے باوجود پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششوں نے جنوبی ایشیا میں جنگ کو ٹالنے میں مدد کی۔ اگر انہوں نے بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نہ کی ہوتی تو ایک مکمل جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے میں امریکی صدر کی امن کی ترویج کے لیے غیرمعمولی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نام زد کیا اور یہ وہ کم سے کم قدم ہے جو ہم ان ( ٹرمپ ) کی امن سے محبت کے لیے کرسکتے تھے۔

شہباز شریف نے کہا ہم اس اہم وقت میں پاکستان کی سفارتی مدد پر اپنے دوستوں، چین، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، آذربائیجان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مشکور ہیں۔

وزیراعظم نے کہا ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن جیتنا چاہتے ہیں، اور میں اس فورم پر اپنی یہ پیشکش دہرانا چاہتا ہوں کہ پاکستان تمام حل طلب معاملات پر بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے،

وزیراعظم کچھ دیر میں جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کریں گے، شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار اور اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔

ہر سال ستمبر میں دنیا کے رہنما نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے جمع ہوتے ہیں اور کئی دنوں تک تقریریں کرتے ہیں۔

23 ستمبر کو حکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس سال جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیرِاعظم شہباز شریف عالمی برادری سے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں طویل قبضے اور حقِ خودارادیت سے انکار کے مسائل کو حل کرنے کی اپیل کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ وزیراعظم علاقائی سلامتی کی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی مسائل مثلاً ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور پائیدار ترقی پر بھی پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔

بیان کے مطابق وزیرِاعظم کی ’ اس سب سے بڑی سالانہ عالمی رہنماؤں کی کانفرنس میں شرکت پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ سے پختہ عزم اور امن و ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو اجاگر کرے گی۔’

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.