ایرانی حملہ ناقابلِ قبول، غزہ میں جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں: قطری وزیراعظم – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

ایرانی حملہ ناقابلِ قبول، غزہ میں جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں: قطری وزیراعظم

قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمٰن جاسم نے دوحہ کے قریب امریکی اڈے پر ایرانی حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حملہ ناقابل قبول ہے، قطری فضائیہ نے کامیابی سے دفاع کیا، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد بن عبدالرحمٰن جاسم نے کہا  کہ ایران اوراسرائیل نے جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا، خطے میں امن کے خواہاں ہیں، غزہ میں جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کرکے قطرکی خودمختاری کو نقصان پہنچایا، ایرانی حملہ قطری خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کا حملہ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران خلیجی ممالک پر جارحیت نہیں کرے گا بلکہ خلیج کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گا۔

قطری وزیراعظم نے بتایا کہ قطر کے امیر نے امریکا کے صدر سے فون پر پیشرفت پر گفتگو کی، ابھی کچھ منٹ پہلے امیر قطر کو ایرانی صدر کا فون آیا، ایرانی صدر نے قطر میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے پراظہار افسوس کیا اور کہا کہ حملے کا ہدف امریکی اڈہ تھا، قطر نہیں، امیر قطر نے جواب دیا  کہ ہم ایران سےاس طرح کے اقدامات کی توقع نہیں کرتے۔

محمد بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ لبنان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی خواہش کی حمایت کرتے ہیں، قطر کی ریاست پر حملہ ناقابل قبول اورسفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے، اس معاملے پر خلیج تعاون کونسل کی دوست ریاستوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حملے سے ہمیں حیرت ہوئی، قطری فضائیہ نے ایک کے سوا تمام ایرانی میزائلوں کو روکا، خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہم اسرائیل سے تنازع حل کرنے پر کام کر رہے ہیں، غیر ذمہ دارانہ اقداما ت سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، امریکی دوستوں نے مشورہ دیا کہ ایران سے بات چیت کی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں، جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں، اُمید ہے سفارتکاری کامیاب اور جنگ بندی برقرار رہے گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.