بلوچستان کے ضلع نوشکی میں دہشت گردوں نے انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کر دی جس سے دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں انسداد پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، شہید پولیس اہلکاروں کی لاشیں ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دی گئیں۔
دہشت گردوں کی فائرنگ سے حملے میں خواتین پر مشتمل پولیو ٹیم محفوظ رہی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے گئے اور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی جبکہ واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اہلکاروں محمد یاسر اور عبدالروف کی شہادت پر اظہار افسوس کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے والی ٹیم پر حملہ درندہ صفت عناصر کا گھناؤنا اور ناقابل معافی فعل ہے، حملہ کرنے والے درندے عبرتناک انجام کے مستحق ہیں۔
بلوچستان حکومت کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے بتایا کہ انسداد پولیو ٹیم پر حملہ بلوچستان کے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے، فتنہ الہندوستان بلوچستان کے امن اور بلوچستان کے بچوں کے مستقبل کا دشمن ہے۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن آئے، ترقی ہو اور بیماریوں کا خاتمہ ہو، فتنہ الہندوستان نہیں چاہتا کہ بلوچستان کے بچے صحت مند اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھیں۔
نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں اندازا 135 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
