امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کی فوجی کشیدگی پر تازہ گفتگو میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انہیں فون کر کے بتایا کہ انہوں نے ’لاکھوں جانیں بچائیں‘، اور یہ بھی کہ اس جھگڑے کو ختم کرنے میں ’350 فیصد ٹیرف‘ کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی۔
اس سال کے آغاز میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ایک ہلاکت خیز حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیے جانے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی، تاہم پاکستان نے الزام کو مسترد کر دیا تھا۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں جو مئی میں ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی پر ختم ہوئیں، اس کے بعد وہ بارہا اس بحران کو ختم کرنے میں اپنے کردار کا ذکر کر چکے ہیں۔
بدھ کو امریکا–سعودی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’میں تنازعات کو حل کرنے میں اچھا ہوں، اور ہمیشہ رہا ہوں، میں نے اس حوالے سے برسوں میں بہت اچھا کام کیا ہے‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جواب دیا کہ ’میں ایسا کرنے جا رہا ہوں، میرے پاس واپس آؤ تو میں اسے کم کر دوں گا، لیکن میں آپ لوگوں کو ایٹمی ہتھیار ایک دوسرے پر داغتے نہیں دیکھ سکتا، لاکھوں لوگوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا اور ایٹمی گرد و غبار کو لاس اینجلس پر آتے نہیں دیکھ سکتا، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا‘۔
انہوں نے دوبارہ کہا کہ ’اس تنازع کو ختم کرنے میں 350 فیصد ٹیرف کی دھمکی ہی کارگر رہی‘۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’کوئی اور صدر ایسا نہ کرتا، جو بائیڈن تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم کن ممالک کی بات کر رہے ہیں، انہیں کوئی اندازہ نہیں ہوگا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن آٹھ جنگوں کے خاتمے کا وہ کریڈٹ لیتے ہیں، ان میں سے 5 انہوں نے ٹیرف کی دھمکی کے ذریعے ختم کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو بتاتا ہوں، پاکستان کے وزیر اعظم نے مجھے فون کیا، انہوں نے واقعی کہا کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں اور انہوں نے یہ بات سوزی کے سامنے کہی‘۔
انہوں نے کہا کہ ‘صدر ٹرمپ نے لاکھوں جانیں بچائیں، انہیں خود اس بات کا اندازہ بھی نہیں، لیکن انہوں نے لاکھوں جانیں بچائیں’۔
امریکی صدر نے جس شخصیت کا نام لیا وہ غالباً وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا فون آیا، اور ان کے درمیان گفتگو اس طرح ہوئی کہ مودی نے کہا کہ ’ہم جنگ نہیں کرنے جا رہے‘۔