ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جوہری صلاحیت توانائی کیلئے استعمال کرنا ہمارا حق ہے، اپنےحقوق پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے یوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اب جو مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کے لیے ہوں گے، خطے میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایران نےہمیشہ کہا جوہری افزودگی کے معاملے پر گفتگو ہو سکتی ہے،ہمارے بارے یہ کہنا کہ چند دن میں ایٹم بم بنالے گا بالکل غلط ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے نے بھی کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا، ایران لبنان کی مزاحمت کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا، ایران کی نیت ہے کہ سفارتی ذرائع سے مسائل حل کریں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکی حکومت ہر ایک ایرانی سے دشمنی رکھتی ہے، جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد متعدد پیغامات بھیجے گئے ہیں، قوی امکان ہے مذاکرات کے تسلسل میں بدھ کو پاکستان میزبانی کرے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی، پابندیاں ہٹانے اور کشیدگی کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے پر بھی گفتگو ہوئی تھی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا پاسبان اور نگہبان ہے، خامنہ ای کا قتل امریکا کے ریکارڈ پر ایک ’بدنما داغ‘ ہے، امریکا کی جانب سے سمندری ناکہ بندی عالمی قوانین کے خلاف ہے، امریکا کا یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے توسط سے مذاکرات جاری رہنے چاہئیں، جوہری صلاحیت کو توانائی کے لیے استعمال کرنا ایران کا حق ہے، بین الاقوامی حقوق کی بنیاد پر ایران کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ پوپ لیو نے کوئی غلط بات نہیں کی تھی، اُنہوں نے ایران کے خلاف جنگ کو غیرمنصفانہ کہا تھا، امریکی فوج کی موجودگی خطے میں امن وامان قائم نہیں رکھ سکتی۔
دوسری جانب اسماعیل بقائی نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلےکی تصدیق کردی ہے۔