جنگ کا پندرہواں روز،اسرائیل میں ایرانی حملوں کے بعد کئی مقامات پر شدید آگ لگ گئی – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

جنگ کا پندرہواں روز،اسرائیل میں ایرانی حملوں کے بعد کئی مقامات پر شدید آگ لگ گئی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پندرہواں روز بھی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئی ہے، ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر میزائل حملے کردیے جس کے بعد تل ابیب میں 20 دھماکے سنے گئے جبکہ متعد دمقامات پر آگ لگ گئی۔

 

ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، صہیونی حکومت کے ایرو اسپیس مانیٹرنگ نظام کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے اور اب فضائی حدود کا ایک اہم حصہ ان کے کنٹرول میں ہے، شب قدر کے موقع پر ایک سے دو ٹن وزنی وار ہیڈز سے لیس 30 سپر ہیوی بیلسٹک میزائل مقبوضہ علاقوں میں مختلف اہداف پر داغے گئے، جن کے نتیجے میں اسرائیل کے کلیدی ایرو اسپیس مانیٹرنگ اور سرویلنس سسٹمز شدید نقصان کا شکار ہوئے اور کئی حصے تباہ ہو گئے۔

 

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے پیشِ نظر امریکہ نے خطے میں مزید پانچ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے، جن کے ساتھ متعدد جنگی بحری جہاز بھی بھیجے جائیں گے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی درخواست پر اٹھایا جا رہا ہے، جس کے تحت ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ میں روانہ کیا جائے گا۔

 

میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس موجود معلومات کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای حالیہ امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں، زخمی ہونے کی شدت کے بارے میں ابھی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اتنا ضرور معلوم ہے کہ انہیں حملے کے دوران جسمانی چوٹ پہنچی ہے۔

 

 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آج ایران پر مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے سب سے طاقتور حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں تمام مقررہ اہداف مکمل طور پر تباہ ہو گئے، میرے حکم پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی مقامات اور خارگ جزیرہ پر بھرپور کارروائی کی، ایران کے پاس ایسی کوئی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ امریکہ کے حملوں کا دفاع کر سکے، ایران نہ کبھی نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر پائے گا اور نہ ہی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ یا دنیا کے لیے کوئی خطرہ بن سکتا ہے، ایران کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے اور اسرائیل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے منصوبے اب مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا ہے کہ بی ٹو بمبار طیاروں کی روانگی کا مقصد طویل فاصلے سے حملہ کر کے نہ صرف ایران کی حکومت سے پیدا ہونے والے فوری خطرات کو کم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں اس کی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ فعال ہونے سے روکنا بھی شامل ہے۔

 

&

 

 

nbsp;

 

عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے کے نتیجے میں پانچ امریکی ری فیولنگ طیارے شدید نقصان کا شکار ہو گئے، یہ طیارے ایرانی میزائل حملے سے متاثر ہوئے، تاہم اس دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے اور مرمت کے کام کا سلسلہ جاری ہے، اب تک کل سات امریکی ری فیولنگ طیارے مختلف حملوں میں نقصان اٹھا چکے ہیں، جس سے بیس کی آپریشنل استعداد متاثر ہوئی ہے۔

 

ترک میڈیا کے مطابق ترکی کے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی حکام کی اجازت سے ترک ملکیت کا ایک جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گیا ہے۔ تاہم موجودہ کشیدہ حالات کے پیشِ نظر اس وقت آبنائے ہرمز میں ترکی کے 15 تجارتی جہاز

زیرِ نگرانی موجود ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ان کی واپسی اور محفوظ گزر یقینی بنائی جا سکے۔

 

قابلِ ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کی وجہ سے یہاں جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.