پاکستان کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ میں بُری فارمنس اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی پر سابق کرکٹر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ عجیب و غریب فیصلے کر رہا ہے، کپتان تبدیل کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہت بڑا کام کردیا ہے۔
انگلینڈ کے خلاف میچ کے ساتھ پاکستان کی ورلڈ کپ مہم اپنے اختتام کو پہنچی جہاں وہ اہم میچوں میں شکستوں کی وجہ سے سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکا اور اس ابتر کارکردگی کے ساتھ ساتھ حارث رؤف نے بھی ورلڈ کپ کی تاریخ کا بدترین ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
گزشتہ روز انگلش ٹیم نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بنائے تھے، قومی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے یہ ہدف 6.4 اوورز یا 40 گیندوں میں حاصل کرنا تھا جو ناممکن تھا۔
بابرالیون نے اتنے کم اوورز میں ہدف حاصل کیا نہ مقررہ اوورز میں ہدف کا تعاقب کرکے میچ جیت سکی۔
پورے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی خراب پرفارمنس کے حوالے سے بابراعظم کی کپتانی پر تو پہلے ہی سوال اٹھ رہے تھے لیکن ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ پر بھی سینئر کرکٹرز نے سنجیدہ سوال اٹھائے تھے۔