بین الاقوامی سائنسدانوں نے امریکا کی ریاست فلوریڈا میں صدی کے سب سے بڑے سمندری طوفان ’ملٹن‘ جس میں خوفناک بگولوں اور طوفانی بارش کے باعث 16 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس کا ذمہ دار انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کو قرار دے دیا۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کی جانب سے کیے گئے تجزیہ میں بتایا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ نے ہوا کی رفتار میں 10 فیصد کے قریب اور بارش میں 20 سے 30 فیصد کے درمیان اضافہ کیا، سائنسدانوں نے اس بات کا مشاہدہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم کی تبدیلی کا مطالعہ کرنے کے بعد دریافت کیا۔
خلیج میکسیکو سے ریاست فلوریڈا کی طرف آنے والا طوفان 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ملٹن کیٹیگری 1 سے خطرناک کیٹیگری 5 کے طوفان میں تبدیل ہوا تھا تاہم فلوریڈا سے ٹکرانے والا درجہ 3 کا طوفان تھا۔
سابقہ سائنسی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے خلیج میں درجہ حرارت میں 400 اور 800 گنا اضافہ کیا ہے۔
یو ایس نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق اس اضافی درجہ حرارت نے ملٹن کو بحر اوقیانوس کو تاریخ کا تیسرا تیز ترین سمندری طوفان بنا دیا ہے، جس میں مسلسل ہوا کی رفتار 180 میل فی گھنٹہ (290 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک ریکارڈ کی گئی۔