خضدار شہداء پریس کلب تین دہائیوں کی روشن تاریخ خون سے لکھی ہوئی وفا
خصوصی فیچر: میران بلوچ
خضدار کی مٹی میں ایک خوشبو رچی بسی ہےخوشبو ان قلموں کی ہے جنہوں نے 1990 سے لے کر آج تک اس سرزمین کا مقدمہ لڑا ہےخضدار شہداء پریس کلب کوئی عام عمارت نہیں ہےیہ دیواروں کا مجموعہ نہیں ہے یہ ان سانسوں کا مجموعہ ہے جو حق کے لیے چلیں یہ ان دلوں کا مجموعہ ہے جو ڈرے نہیں یہ ان آنکھوں کا مجموعہ ہے جنہوں نے ظلم دیکھا اور پھر بھی پلک نہیں جھپکائی چھتیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیاتین دہائیاں ایک نسل جوان ہوگئی ایک نسل بوڑھی ہو گئی مگر خضدار پریس کلب کا چراغ نہ بجھا طوفان آئےاندھیرے آئےدھمکیاں آئیں۔ گولیاں چلیں مگر یہ قلم نہ روکا 1990 کا وہ وقت یاد کرو جب خضدار میں خبر کا مطلب خطرہ تھاجب سچ بولنے والے کو غدار کہا جاتا تھا اس وقت چند نڈر نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے انہوں نے ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک میز رکھی ایک کرسی رکھی اور ایک عہد کیاکہ ہم خضدار کی آواز بنیں گے وہ آواز آج بھی گونج رہی ہےخضدار شہداء پریس کلب کا نام ہی ایک داستان ہے شہداء یہ لفظ خالی نہیں ہے اس لفظ کے پیچھے جنازے ہیں اس لفظ کے پیچھے مائیں ہیں جن کے بیٹے واپس نہ آئے اس لفظ کے پیچھے بچے ہیں جنہوں نے باپ کی گود نصیب میں نہیں دیکھی اس لفظ کے پیچھے وہ صحافی ہیں جنہوں نے خبرکے لیے اپنی جان دے دی انہوں نے مرکر بھی ادارے کو زندہ رکھاانہوں نے خون دے کر بھی قلم کو سلامت رکھاآج جب کوئی کہتا ہے کہ حالات خراب ہیں تو خضدار کا ہر صحافی مسکرا کر کہتا ہے کہ ہم نے اس سے بھی بدتر وقت دیکھا ہےجب کوئی کہتا ہے کہ رپورٹنگ مشکل ہے تو پریس کلب کا دروازہ کھول کر دکھا دیتے ہیں کہ یہاں ہر اینٹ پر ایک کہانی لکھی ہوئی ہےحالات کی نزاکت یہ کوئی نیا جملہ نہیں ہے خضدار کے لیے یہاں ہر دن ایک امتحان ہےیہاں ہر خبر ایک ذمہ داری ہے یہاں ایک غلط لفظ پورے شہر میں آگ لگا سکتا ہے اسی لیے خضدار کے صحافی نے ہمیشہ تول کر بولا ہےناپ کر لکھا ہےسوچ کر چھاپا ہےانہوں نے جلد بازی نہیں کی انہوں نے سنسنی نہیں بیچی انہوں نے سچ بیچا ہے سچ کی قیمت چکائی ہےدیکھو ذرا آج کے دور سوشل میڈیا کا دور ہے ہر کوئی موبائل اٹھا کر خود کو دانشور سمجھتا ہے دو ٹکے کے اکاؤنٹ بنتے ہیں بغیر تحقیق کے زہر اگلا جاتا ہےبغیر ثبوت کے کردار کشی کی جاتی ہےکچھ لوگ بیٹھ کر خضدار پریس کلب پر کیچڑ اچھالتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ آستین کے سانپ ہیں وہ کہتے ہیں یہ غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں وہ نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں ان سے پوچھو کہ تم نے خضدار کے لیے کیا ہےان سے پوچھو کہ تم نے کبھی رات دو بجے تھانے کے چکر لگائے ہیں ان سے پوچھو کہ تم نے کبھی جنازے کی خبر لکھتے ہوئے اپنے آنسو روکے ہیں ان سے پوچھو کہ تم نے کبھی دھمکی والا فون سن کر بھی اگلے دن دفتر کا رخ کیا ہےجواب خاموشی ہوگاکیونکہ تنقید کرنا آسان ہے کیچڑ اچھالنا آسان ہے مگر میدان میں اتر کر سچ لکھنا مشکل ہےخضدار پریس کلب کے صحافی مشکل کو گلے لگاتے ہیں 1990 سے لے کر آج تک اس پریس کلب نے کیا نہیں کیاجب سیلاب آیا تو صحافی نے کشتی چلا کر خبر پہنچائی جب زلزلہ آیا تو صحافی نے ملبے سے لاشیں نکال کر نام لکھےجب احتجاج ہوا تو صحافی بیچ میں کھڑا ہوکر دونوں طرف کی بات سنی جب امن کی ضرورت تھی تو صحافی نے امن کا پیغام لکھاجب ظلم ہوا تو صحافی نے ظلم کے خلاف چیخ لکھی یہ ادارہ خضدار کی یادداشت ہے یہاں ہر فائل ایک زخم ہےیہاں ہر ریکارڈ ایک قربانی ہےنئی نسل کے صحافی جب اس پریس کلب میں قدم رکھتے ہیں تو بزرگ انہیں ایک بات ضرور بتاتے ہیں بیٹا قلم کی حرمت کا خیال رکھناخبر کی سچائی کا خیال رکھناشہر کی عزت کا خیال رکھنااور نئی نسل یہ عہد نبھاتی ہےآج بھی جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے میڈیا والے نہیں پہنچتے سب سے پہلے خضدار پریس کلب کا صحافی پہنچتا ہےوہ زخمیوں کے ساتھ ہسپتال جاتا ہےوہ لواحقین کے ساتھ بیٹھ کر آنسو پونچھتا ہےوہ پولیس سے بات کرتا ہےوہ انتظامیہ سے بات کرتا ہے پھر جاکرخبر لکھتا ہےیہ صحافت نہیں ہے یہ خدمت ہےکچھ لوگ کہتے ہیں کہ پریس کلب خاموش ہےان کو بتانا چاہتا ہوں کہ خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے جب شہر جل رہا ہو تو جلتی ہوئی آگ میں پیٹرول ڈالنا صحافت نہیں ہوتی اس وقت زخموں پر مرہم رکھنا صحافت ہوتی ہےخضدار کے صحافیوں نے یہی کیا ہےانہوں نے نفرت کے بیانیے کو ہوا نہیں دی انہوں نے تقسیم کی بات نہیں کی انہوں نے ہمیشہ خضدار کی بات کی خضدار کے درد کی بات کی ہے خضدار کے مستقبل کی بات کی کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک رپورٹر کتنی بار موت کے منہ سے واپس آیا ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایڈیٹر کتنی راتیں جاگ کر ایک خبر کو سچ ثابت کرنے میں لگا دیتا ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک فوٹوگرافر کتنی بار کیمرہ بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہےنہیں جانتے کیونکہ آپ صرف تنقید کرنا جانتے ہیں خضدار شہداء پریس کلب کے دروازے پر جو قلم کی تختی لگی ہےاس پر صرف نام نہیں لکھے اس پر عہد لکھا ہے یہاں وہ بات لکھا ہے جس نے قلم کو عبادت بنایاہواہےسوشل میڈیا کے بے لگام لکھاریوں کو شاید یہ نہیں پتہ کہ ایک خبر کے پیچھے کتنی محنت ہوتی ہےایک لائن کے پیچھے کتنی کالز ہوتی ہیں ایک تصویر کے پیچھے کتنا انتظار ہوتا ہےخضدار پریس کلب یہ سب جانتا ہے اسی لیے وہ جلدی میں نہیں ہے وہ سچ میں ہےوقت گواہ ہے کہ جب بھی خضدار پر مشکل آئی ہے تو اس پریس کلب نے ڈھال کا کام کیا ہےجب بھی شہر کا نام بدنام کرنے کی کوشش ہوئی ہے تو اس پریس کلب نے شہر کا دفاع کیا ہےیہی وجہ ہے کہ آج بھی دور دراز کے گاؤں سے لوگ خضدار آکر کہتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ اخبار میں لکھ دو ٹی وی پرچلادو کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہاں لکھا ہوا سچ ہےیہ یقین تیس سال کی محنت سے آیا ہے یہ یقین خون سے آیا ہےآج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے محافظوں کی عزت کریں جو قلم ہمارے لیے لڑ رہاہے اس قلم کا ہاتھ تھامیں جو صحافی رات دن جاگ کر ہمارے لیے لکھ رہا ہے اس کے لیے دعا کریں تنقید برائے اصلاح اچھی چیز ہےمگر تنقید برائے بغض زہر ہےاور خضدار پریس کلب کے خلاف جو زہر اگلا جارہا ہے وہ شہر کے لیے زہر ہےیاد رکھو جس دن یہ قلم رک گیااس دن خضدار کی آواز دب جائے گی جس دن یہ ادارہ کمزور ہوا اس دن سچ کمزور ہو جائے گا اس لیے خداراخضدار شہداء پریس کلب کی عزت کرو اس کی تاریخ پڑھواس کی قربانیاں پڑھوپھر فیصلہ کرو کہ کون آستین کا سانپ ہے 1990 سے 2026 تک کا سفر آسان نہیں تھا کانٹے تھے آگ تھی خون تھا مگر اس سفر میں ایک چیز نہیں تھی اور وہ تھی بےایمانی خضدار پریس کلب نے کبھی بےایمانی نہیں کی کبھی سودا نہیں کیاکبھی جھکا نہیں اور انشاءاللہ کبھی جھکے گا بھی نہیں کیونکہ اس ادارے کی بنیاد میں شہادت کا خون شامل ہے اور خون سے بنی ہوئی دیواریں کبھی نہیں گرتیں خضدار بولے گا خضدار لکھے گا خضدار جیتے گا اور اس کی آواز کا نام ہوگا خضدار شہداء پریس کلب