برطانیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیرقانونی قرار دے دیا

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی بستیاں غیر قانونی ہیں، اسرائیل کو غیر قانونی بستیوں کی تعمیر فوری روکنی چاہیے۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ مزید انتہاپسند اسرائیلی آباد کاروں پر آج پابندیاں عائد کرے گا جبکہ تعمیراتی کاموں میں اسرائیلی آباد کاری کی مدد کرنے والی کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد میں ملوث افراد کا احتساب یقینی بنایا جائے، جبکہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا، اسرائیل کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف اس کے عملی اقدامات کی بنیاد پر طے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے 30 لائسنس پہلے ہی معطل کیے جا چکے ہیں جبکہ فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ غزہ کے عوام گزشتہ تین سال سے مشکل زندگی گزار رہے ہیں، ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا اور 60 فیصد گھر تباہ کر دیے گئے، غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں اور جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں، سیزفائر کے باوجود 1200 فلسطینیوں کے قتل پر بھی تشویش ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے واضح کیا کہ برطانیہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور یہ برطانوی حکومت کی پالیسی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P