شمالی غزہ میں صہیونی فوج پر حماس کے تباہ کن حملے میں 5 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے وزیر قومی سلامی اتمار بن گویر نے مکمل محاصرے اور فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کوہی کامیابی کی کنجی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ میں حماس سے مذاکرات کے لیے بھیجے گئے وفد کو فوراً واپس بلا لیں۔
الجزیرہ کے مطابق اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں اتمار بن گویر نے کہا کہ ’ایسے لوگوں سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں جو ہمارے سپاہیوں کو قتل کرتے ہیں، انہیں انسانی امداد دے کر سانس لینے کا موقع فراہم کرنے کے بجائے ہڈیوں تک کچل دینا چاہیے اور بھوکا مار دینا چاہیے‘۔
انہوں نے غزہ کے مکمل محاصرے، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلیوں کی آبادکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ’مکمل کامیابی کی یہی کنجی ہے، نہ کہ وہ لاپرواہ معاہدہ جس کے نتیجے میں ہزاروں دہشت گردوں کو رہا کیا جائے اور ان علاقوں سے اسرائیلی فوج کو واپس بلایا جائے جو ہمارے سپاہیوں کے خون سے فتح کیے گئے ہیں‘۔