نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 20 جنوری کو عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل ’ہش منی کیس‘ (یعنی کسی شخص کو مخصوص راز افشا نہ کرنے کے عوض رقم دینا) میں نیو یارک کی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جج جوآن مرچن نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ جو سزا پانے والے پہلے امریکی صدر ہیں، 10 جنوری کو ذاتی حیثیت میں یا آن لائن پیش ہوسکتے ہیں۔‘
18 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج جوآن مرچن نے نیو یارک کی جیوری کی جانب سے دی جانے والی سزا کو برقرار رکھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا کی طرف سے سزا کالعدم قرار دینے کی متعدد درخواستوں کو رد کیا۔
جج کا کہنا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر کو جیل بھیجنے کے بجائے ’غیر مشروط ڈسچارج‘ کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے تحت جرم ثابت ہوجاتا ہے تاہم جیل جانے کے معاملے میں رعایت دی جاتی ہے اور جرمانہ ادا کیا جاسکتا ہے۔