سابق اور موجودہ حکومتوں نے پام آئل کی کاشت کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام کیا اور نہ ہی اس کی پراسسنگ پر خاص توجہ دی جس کی وجہ سے مقامی کسانوں میں اس کی کاشت کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ پاکستان کا وسیع ساحلی علاقہ پام آئل کی کاشت کیلئے بہترین اور وہاں بے پناہ پیداواری صلاحیت بھی موجود ہے ۔ مقامی سطح پر کاشت سے ہم سالانہ اربوں روپے بچا سکتے ہیں۔ دستیا ب دستاویزات کے مطابق صرف جولائی 2024ء میں حکومت نے 66ارب 79کروڑ روپے سے زائد کا پام آئل بیرون ممالک سے منگوایا۔ مقامی سطح پر آئل سیڈز کی تمام فصلیں اگائی جاتی ہیں لیکن پام آئل کی کاشت پر خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ واضح رہے 1996میں پاکستان کے ساحلی علاقوں پر پام آئل کی کاشت کا تجربہ کیا گیا لیکن خاص توجہ نہ دینے کی وجہ سے منصوبے کوکامیابی نہ مل سکی۔
Trending
- Daily Mashriq 12-06-2026
- آج رات ایران پر انتہائی طاقتور حملہ کریں گے، ٹرمپ کا اعلان
- بلوچستان میں 23 ہڑتالی ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس
- لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، ماہرہ خان کا شدید ردعمل
- لیڈر کی رہائی کیلئے احتجاج کریں مگر اداروں کو نشانہ نہ بنائیں: خواجہ آصف
- بنگلا دیش نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کر دی
- کترینہ کیف اب دوبارہ فلموں میں کام کریں گی یا نہیں؟
- وفاقی وزراء حکومتی مشینری کے ذریعے جی بی الیکشن کے نتائج بدلنا چاہتے ہیں: ندیم افضل چن
- فیفا ورلڈ کپ کا آغاز، تین افتتاحی تقریبات کی پہلی تقریب آج میکسیکو میں ہوگی
- پاکستان میں غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی
Prev Post
Next Post
You might also like