سابق اور موجودہ حکومتوں نے پام آئل کی کاشت کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام کیا اور نہ ہی اس کی پراسسنگ پر خاص توجہ دی جس کی وجہ سے مقامی کسانوں میں اس کی کاشت کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ پاکستان کا وسیع ساحلی علاقہ پام آئل کی کاشت کیلئے بہترین اور وہاں بے پناہ پیداواری صلاحیت بھی موجود ہے ۔ مقامی سطح پر کاشت سے ہم سالانہ اربوں روپے بچا سکتے ہیں۔ دستیا ب دستاویزات کے مطابق صرف جولائی 2024ء میں حکومت نے 66ارب 79کروڑ روپے سے زائد کا پام آئل بیرون ممالک سے منگوایا۔ مقامی سطح پر آئل سیڈز کی تمام فصلیں اگائی جاتی ہیں لیکن پام آئل کی کاشت پر خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ واضح رہے 1996میں پاکستان کے ساحلی علاقوں پر پام آئل کی کاشت کا تجربہ کیا گیا لیکن خاص توجہ نہ دینے کی وجہ سے منصوبے کوکامیابی نہ مل سکی۔
Prev Post
Next Post
You might also like