بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، انہیں بتاؤں گا کہ آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے اور ملک جہاں جا رہا ہے اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا، فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا۔
عمران خان نے کہاکہ ہم نے پنجاب اور کے پی کی حکومتیں ایجنسیوں کے دباؤ سے بچنے کے لیے ختم کیں، نگران وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے پاس کیا جواز ہے؟ کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہباز شریف کو پیغام بھیجا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ چیف جسٹس ایک دبنگ آدمی ہیں بلوچستان میں کنٹرولڈ حکومت بنائی جس سے آزادی کی تحریک مزید تیز ہورہی ہے، ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری نو مئی اور آٹھ فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا؟ ہمارا ٹرائل بھی نواز شریف آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے ٹرائل کی طرز پر چلایا جائے ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ٹرائل کی کارروائی نارمل انداز میں آگے بڑھائی جائے سپریم کورٹ میں میری پیشی براہ راست نشر نہیں کی گئی میں سپریم کورٹ سماعت میں بات کرنے کے لیے بے تاب رہا امید کرتا ہوں میری اگلی پیشی کو براہ راست نشر کیا جائے گا۔
صحافی نے سوال کیا کہ بشری بی بی نے میڈیکل ٹیسٹ نہیں کرائے؟ اس پر انہوں ںے کہا کہ ہم نے یہ موقف اپنایا کہ آپ خون کے دو نمونے لیں ایک پمز اور دوسرا شوکت خانم کو بھیجیں، مجھے پمز کی رپورٹس پر اعتماد نہیں ہے، پمز والوں نے پہلے میرے خون سے کوکین نکلنے کی رپورٹ دی تھی جس پر میرا ہرجانے کا کیس چل رہا ہے، بشری بی بی نے بھی کہا کہ خون کے نمونے دونوں لیباٹریوں میں بھیجے جائیں میڈیکل عملے نے انکار کیا جس پر بشری بی بی نے بھی خون کے سیملز نہیں دئیے۔
عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، وکلا کو ہدایات دی ہیں وہ خط تیار کر کے مجھے بتائیں گے، خط میں بتاؤں گا کہ آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے اور ملک جہاں جا رہا ہے اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا، فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا۔
بانی پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ مس کنڈکٹ پر جج ابو الحسنات اور جج قدرت اللہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کا کہا ہے