بینکنگ ذرائع نے کہا ہے کہ شرح تبادلہ کی بڑھتی ہوئی بےیقینی کے پیش نظر بینک ڈالر فروخت کرنے سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے درآمد کنندگان کے لیے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنا مشکل ہو رہا ہے۔
کرنسی ڈیلرز نے کہا کہ اس ماہ ڈالر کی آمد کم تھی لیکن بینک اپنے پاس زیادہ سے زیادہ لیکویڈٹی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کرنسی مارکیٹ میں کام کرنے والے ایک سینئر بینکر عاطف احمد نے کہا کہ بینک، بینکنگ مارکیٹ میں ڈالر فروخت کرنے سے گریزاں ہیں جو ڈالر کی قلت اور اس کی قدر میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے دوران ڈالر کی آمد کم رہی لیکن یہ رکی نہیں، بینک ایکسچینج ریٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جو مستحکم نہیں ہے اور اسی رجحان کے پیش نظر وہ ڈالر اپنے پاس رکھ رہے ہیں۔