نائجیریا کی سیکیورٹی فورسز نے ایک ہفتے کے دوران شدت پسندوں کے قبضے سے کم از کم 308 افراد کو بازیاب کرا لیا ہے، جسے حکام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن قرار دے رہے ہیں۔
ان بازیاب ہونے والے افراد میں بڑی تعداد 2 مختلف گروہوں سے تعلق رکھتی ہے، جنہیں طویل عرصے سے جنگجوؤں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔، 163 افراد کو ریاست کوارا کی وورو کمیونٹی سے 3 فروری کو ہونے والے ایک حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ حملے کے دوران شدت پسندوں نے وورو گاؤں میں مزید 160 افراد کو قتل کردیا تھا۔
مغویوں نے بتایا کہ انہیں غالباً اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے شدت پسندوں کی مذہبی تعلیمات قبول کرنے اور ان کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تھا۔
حوا سلیو نامی ایک خاتون نے بتایا کہ اغوا کار مسلسل مغویوں سے پوچھتے رہتے تھے کہ آیا انہوں نے جہاد قبول کرلیا ہے یا نہیں، ہم اللہ سے دعا کرتے تھے کہ وہ ہمیں اپنے گھروں تک واپس پہنچا دے، لیکن ہمیں کبھی واقعی یقین نہیں تھا کہ ہم دوبارہ گھر جا سکیں گے۔
ایک اور متاثرہ خاتون امیرہ سلیو نے قید کے دوران خواتین اور بچوں کی انتہائی کسمپرسی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ایک دریا کے قریب جنگل میں رکھا گیا تھا، جب بھی انہیں قریب ہیلی کاپٹروں کی آواز سنائی دیتی تو وہ آگ بجھانے اور خود کو چھپانے پر مجبور ہوجاتے تھے۔
پیشے کے اعتبار سے نرس امیرہ سلیو نے بتایا کہ قید کے دوران انہیں 10 خواتین کی زچگی میں مدد کرنا پڑی، مگر اس وقت ان کے پاس نہ طبی آلات تھے اور نہ ہی حفظانِ صحت کے لیے دستانے دستیاب تھے، میرے پاس اپنے ننگے ہاتھ استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
44 سالہ میری ایشایا نے بتایا کہ مغویوں کو کئی کئی دن تک کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا، جبکہ انہیں ان ساتھی مغویوں کی تدفین بھی کرنا پڑتی تھی جو قید کے دوران جان کی بازی ہار گئے، میں اب بھی ایسے الفاظ تلاش نہیں کرپارہی جو ہمارے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بیان کرسکیں۔ ہم نے موت اور اذیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ریاست کوارا کے گورنر عبدالرحمان عبدالرزاق نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بازیاب کرائے گئے 46 افراد کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے، یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے اور حکام ابھی تک اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، ہسپتال میں موجود متاثرین میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے اور یہ واقعہ انتہائی شرمناک ہے۔
نائجیریا میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملک کے شمالی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں اور ملک کی بڑی مسیحی آبادی کے درمیان جاری کشیدگی کو بھی نمایاں کرتا ہے، نائجیریا کی مجموعی آبادی میں مسیحیوں کا حصہ تقریباً 45 فیصد ہے۔

